سپریم کورٹ آزاد کشمیر میں مہاجرین کی نشستوں سے متعلق صدارتی ریفرنس پر فیصلہ محفوظ

Calender Icon ہفتہ 6 جون 2026

سپریم کورٹ(Supreme Court) آزاد کشمیر نے مہاجرین کی مخصوص نشستوں سے متعلق دائر صدارتی ریفرنس پر سماعت مکمل ہونے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

چیف جسٹس راجہ سعید اکرم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس دوران عدالت نے ریفرنس میں اٹھائے گئے آئینی نکات پر فریقین اور عدالتی معاونین کے تفصیلی دلائل سنے۔

سماعت کے دوران راجہ سجاد ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 33 کے تحت قانون سازی کا مکمل اختیار قانون ساز اسمبلی کو حاصل ہے، جبکہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بھی مہاجرین کی نشستوں کے معاملے پر اپنا واضح مؤقف پیش کر چکی ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ مہاجرین کی نشستوں سے متعلق معاملہ پہلے ہائی پاور کمیٹی کے سامنے زیرِ غور آنا چاہیے تھا تاکہ اس پر جامع مشاورت ممکن ہو سکتی۔

مزید پڑھیں؛گلگت بلتستان انتخابات: ضلع دیامر میں 119 پولنگ اسٹیشنز انتہائی حساس قرار

سماعت کے دوران وفاقی کمیٹی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا حوالہ بھی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس موقع پر بیرسٹر ہمایوں نواز، راجہ صداقت حسین اور سردار عبدالرازق نے بھی مختلف قانونی اور آئینی نکات پر اپنے دلائل دیے۔

تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ کے ڈویژن بینچ نے فیصلہ محفوظ کر لیا اور ہدایت جاری کی کہ صدر آزاد کشمیر کو کل عدالت کی آئینی رائے سے آگاہ کر دیا جائے گا۔

اس مقدمے کے فیصلے کو آزاد کشمیر میں مہاجرین کی نمائندگی اور آئینی اختیارات کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔