امریکا اور ایران عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں، تاہم ایران کے منجمد اثاثوں(frozen assets) کی واپسی کے طریقہ کار پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات بدستور برقرار ہیں۔
خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے عبوری معاہدے کی کوششوں میں تیزی آ گئی ہے اور حالیہ جھڑپوں کے باوجود دونوں فریق ایران کے منجمد اثاثوں سے متعلق معاملات پر بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق مجوزہ مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات پر پیغامات کا تبادلہ مسلسل جاری ہے، جبکہ ایرانی تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی اربوں ڈالر کی آمدنی جاری کرنے کے طریقہ کار پر بھی مذاکرات ہو رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق تہران 6 سے 12 ارب ڈالر فوری طور پر جاری کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ واشنگٹن اس رقم کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مرحلہ وار جاری کرنے کا خواہاں ہے۔
رائٹرز کا کہنا ہے کہ امریکا براہِ راست ایران کو رقوم واپس کرنے کی مخالفت کرتا ہے اور اس حوالے سے متبادل طریقہ کار پر غور کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:اسلام آباد: ایکسائز کی روڈ چیکنگ مہم، 7 مسرقہ گاڑیاں برآمد، ٹوکن ٹیکس تاریخ میں توسیع
خبر ایجنسی کے مطابق حالیہ جھڑپیں کسی ممکنہ معاہدے کے اعلان سے قبل کی تیاریوں کا حصہ بھی ہو سکتی ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں۔












جمعرات 11 جون 2026 