اسلام آبادیادگارِ فتح کا شاندار افتتاح، قومی اتحاد اور دفاع وطن کے عزم کا اظہار

Calender Icon جمعہ 14 اگست 2026

اسلام آباد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں یومِ آزادی کے موقع پر ایچ ایٹ مین ایکسپریس وے پر واقع  یادگارِ فتح  کی شاندار افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں قومی جذبے، حب الوطنی، اتحاد و یکجہتی اور دفاع وطن کے عزم کا بھرپور اظہار کیا گیا۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی، جبکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی تقریب میں شریک ہوئے۔

تقریب میں چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی، وفاقی وزرا، سروسز چیفس، غیر ملکی سفرا، اعلیٰ سول و عسکری حکام، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے گورنرز سمیت وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے شرکت کی۔

پُروقار تقریب میں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان پولیس کے دستوں نے شرکت کی، جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پولیس کے دستے بھی تقریب کا حصہ بنے۔ مسلح افواج کے ساتھ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی سول آرمڈ فورسز کے دستوں نے بھی پریڈ میں حصہ لیا۔

فوجی

باوقار دستوں کی پریڈ نے قومی اتحاد، یگانگت اور یکجہتی کی خوبصورت عکاسی کی۔ تقریب کے دوران ملک کے دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا اور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا، جبکہ پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور دفاع کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف: پاکستان امن چاہتا ہے، امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے

یادگارِ فتح کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پوری قوم کو یومِ آزادی کی مبارکباد دی اور کہا کہ پاکستان امن چاہتا ہے، تاہم امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پاکستان عزت اور وقار کے ساتھ امن کے لیے کھڑا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پوری قوم اللہ تعالیٰ کے حضور سر بسجود ہے جس نے پاکستان کو آزاد وطن جیسی عظیم نعمت عطا کی۔ ہمارے بزرگوں نے آزادی کے حصول کے لیے بے مثال قربانیاں دیں۔

انہوں نے کہا کہ  یادگارِ فتح قوم کے عزم و ہمت، مسلح افواج کی مہارت اور برتری کی علامت ہے۔  معرکۂ حق میں عظیم کامیابی پر پوری قوم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

شہباز شریف نے کہا کہ صرف آٹھ ماہ کے مختصر عرصے میں یادگارِ فتح کی تعمیر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ذاتی دلچسپی کا نتیجہ ہے۔ یادگارِ فتح قومی اتحاد اور یکجہتی کی علامت ہے جبکہ معرکۂ حق میں کامیابی نے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کردیا ہے۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان کے پانی کی ایک ایک بوند ریڈ لائن ہے اور پانی کے معاملے پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت راہ راست پر نہ آیا تو پاکستان اسے جواب دے گا، دشمن معرکۂ حق میں ہونے والی شکست کو ہمیشہ یاد رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ نئی نسل کو ترقی کے نئے مواقع فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔ پاکستان خطے میں استحکام کی علامت بن چکا ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ دنیا نئے تنازعات سے محفوظ رہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے بھی اپنا کردار ادا کیا، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا تاریخی کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ سال برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا، جبکہ حال ہی میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ عالم اسلام کے لیے امن کی نوید اور دنیا میں استحکام کی علامت ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے اور کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت بھی جاری رکھے گا۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان امن، استحکام اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا، تاہم ملکی سلامتی، خودمختاری اور آبی وسائل کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔

معرکۂ حق میں کامیابی نے قوم کا سر فخر سے بلند کردیا:صدر آصف زرداری

زرداری

صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے بھارت کو شکست دی اور معرکۂ حق میں کامیابی نے قوم کا سر فخر سے بلند کردیا۔

یادگارِ فتح کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ یادگارِ فتح معرکۂ حق میں کامیابی، شہدا اور غازیوں کی لازوال داستان اور قوم کے عزم و حوصلے کی علامت ہے۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان امن کے عمل میں دنیا کے ساتھ ہے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کی عالمی برادری معترف ہے۔ پاکستان دنیا کے امن اور خوشحالی کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں نسل کشی کسی صورت قابل قبول نہیں جبکہ گریٹر اسرائیل کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔

صدر آصف علی زرداری نے مسئلہ کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد نے بھی کشمیر کے جہاد میں حصہ لیا تھا۔ انہوں نے کشمیری عوام کے ساتھ پاکستان کی حمایت اور وابستگی کا اعادہ کیا۔

صدر مملکت نے ملک کی سماجی ترقی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خصوصاً تعلیم کے شعبے پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ نئی نسل کو بہتر مواقع فراہم کیے جاسکیں اور پاکستان کو مزید مضبوط اور خوشحال بنایا جاسکے۔

یادگارِ فتح قومی تاریخ، شہدا اور دفاع وطن کی علامت قرار

یادگارِ فتح کو قومی تاریخ، معرکۂ حق میں کامیابی، شہدا اور غازیوں کی لازوال قربانیوں اور عزمِ صمیم کی علامت قرار دیا گیا ہے۔

تقریب کے دوران یادگارِ فتح کی تعمیر سے متعلق دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی، جبکہ پاک فضائیہ کے طیاروں نے فضائی مظاہرہ کرکے تقریب کو مزید شاندار بنا دیا۔

مہمان خصوصی صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے یادگارِ فتح کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، اسپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ، وزیر دفاع، وزیر خارجہ اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سمیت دیگر اہم شخصیات موجود تھیں۔

تقریب میں اتحاد، یکجہتی اور قومی وحدت کی خوبصورت عکاسی کی گئی۔ یادگارِ فتح کو قومی تاریخ، معرکۂ حق میں کامیابی، شہدا اور غازیوں کی قربانیوں اور قومی عزم کی علامت قرار دیا گیا، جبکہ مختلف اداروں کے باوقار دستوں نے قومی اتحاد اور یگانگت کا عملی مظاہرہ پیش کیا۔

شہریوں کی بڑی تعداد کی شرکت

اسلام آباد کے ایچ ایٹ مین ایکسپریس وے پر واقع یادگارِ فتح کی افتتاحی تقریب میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مختلف علاقوں سے آنے والے شہریوں نے قومی پرچم لہراتے ہوئے پاکستان سے محبت، قومی یکجہتی اور حب الوطنی کا اظہار کیا۔

شہریوں کی بڑی شرکت کے باعث افتتاحی تقریب ایک پُرجوش اور ملی جذبے سے بھرپور منظر پیش کرتی رہی۔ تقریب میں قومی پرچموں کی بہار اور مختلف اداروں کے دستوں کی شرکت نے تقریب کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا۔

80 فٹ بلند اور 150 فٹ چوڑی یادگار

یادگارِ فتح کا ڈھانچہ تقریباً 80 فٹ بلند اور 150 فٹ چوڑا ہے، جو اسلام آباد کے تعمیراتی منظرنامے میں ایک نمایاں اضافہ ہے۔

یادگار کی تعمیر میں قومی تاریخ، دفاع وطن اور قومی عزم کے جذبے کو نمایاں کرنے کے ساتھ جدید طرزِ تعمیر کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔

یادگارِ فتح میں جدید بصری ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔ یادگار پر مستقل 3 ڈی پروجیکشن میپنگ سسٹم نصب کیا گیا ہے، جس کے ذریعے رات کے وقت اس کے محرابوں، ستونوں اور سنگِ مرمر سے مزین سطحوں کو مختلف روشنیوں اور مناظر سے اجاگر کیا جائے گا۔

یادگار پر اختتامِ ہفتہ کی راتوں میں خصوصی پروجیکشن شوز بھی منعقد کیے جانے کی توقع ہے، جس سے یہ مقام شہریوں کے لیے ایک نئی تفریحی اور سیاحتی کشش بن سکتا ہے اور مستقبل میں عوامی اجتماعات کے لیے بھی اہم مرکز کی حیثیت اختیار کرسکتا ہے۔

ایف ڈبلیو او نے تعمیراتی کام مکمل کیا

یادگارِ فتح کے تعمیراتی ڈھانچے، پتھر کے کام اور منصوبے کے دیگر اہم حصے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) نے مکمل کیے ہیں۔

افتتاحی تقریب میں شہریوں کی بڑی تعداد کی شرکت نے یادگارِ فتح کو نہ صرف قومی تاریخ اور دفاعی عزم کی علامت کے طور پر اجاگر کیا بلکہ اسے اسلام آباد کے ایک نئے نمایاں قومی اور عوامی مقام کے طور پر بھی متعارف کرا دیا۔

یادگارِ فتح کا افتتاح یومِ آزادی کے موقع پر قومی اتحاد، دفاع وطن کے عزم اور شہدا و غازیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے حوالے سے ایک اہم تقریب کے طور پر سامنے آیا، جہاں سیاسی، عسکری، سفارتی اور سول قیادت کے ساتھ شہریوں نے بھی پاکستان کی سلامتی، خودمختاری، امن اور استحکام کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا۔