پاکستان اور افریقہ کی دوستی مشترکہ تاریخ اور مشترکہ امنگوں پر مبنی ہے، وزیر اطلاعات

Calender Icon ہفتہ 13 جون 2026

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ(Ata Tarar) نے ’’ہیپی افریقہ ڈے‘‘ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ افریقہ ڈے کے موقع پر حکومتِ پاکستان کی نمائندگی کرنا ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ دن افریقی براعظم کے ثقافتی تنوع، روایات، اقدار اور مشترکہ انسانی ورثے کے اعتراف اور جشن کا دن ہے، جو افریقی اقوام کے عزم، استقامت اور ترقی کی علامت ہے۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ افریقہ ڈے افریقی اقوام کے ان چیلنجز پر قابو پانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے جن کا سامنا انہوں نے تاریخ کے مختلف ادوار میں کیا۔ انہوں نے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ رواں سال کو پانی کے پائیدار استعمال کا سال قرار دیا گیا ہے، کیونکہ پانی انسانی زندگی اور تہذیبوں کی بقا کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’پانی ہی زندگی ہے‘‘ کا تصور پاکستانی معاشرے میں بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان وادیٔ سندھ کی عظیم تہذیب کا وارث ہے اور دریائے سندھ کے کناروں پر پروان چڑھنے والی تہذیب نے ہماری ثقافت، شناخت اور سماجی اقدار کی بنیاد رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ پانی کی اہمیت اور اس کے تحفظ کا شعور ہماری اجتماعی سوچ کا حصہ ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کے لیے افریقہ ڈے مشترکہ تاریخ، مشترکہ جدوجہد اور مشترکہ امنگوں کی یاددہانی ہے۔ افریقی ممالک کی طرح پاکستان بھی نوآبادیاتی دور کے تجربات سے گزرا ہے، اور یہی مشترکہ تاریخی پس منظر پاکستان اور افریقہ کے درمیان دیرینہ دوستی اور یکجہتی کی بنیاد بنا۔

انہوں نے افریقہ کے جغرافیائی اور قدرتی حسن کو سراہتے ہوئے کہا کہ سرینگیٹی کے سنہری میدان، صحارا اور نمیب کے وسیع صحرا اور کانگو بیسن کے گھنے جنگلات دنیا کے شاندار ترین قدرتی مناظر میں شمار ہوتے ہیں۔ افریقہ اپنے وسائل، ثقافت اور انسانی صلاحیتوں کے اعتبار سے ایک غیرمعمولی براعظم ہے۔

مزیدپڑھیں:آئندہ مالی سال کے بجٹ میں قومی اسمبلی کےلیے 17 ارب روپے مختص

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کی افریقہ کے ساتھ وابستگی ’’انگیج افریقہ‘‘ پالیسی کے تحت مزید مضبوط ہو رہی ہے۔ مصر سے جنوبی افریقہ اور سینیگال سے ایتھوپیا تک پاکستان باہمی تعاون، دوستی اور ترقیاتی شراکت داری پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی افریقی ممالک کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی تعلقات کو پائیدار بنیادوں پر فروغ دینے کے عزم کی عکاس ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان افریقہ کو صرف سفارتی شراکت دار کے طور پر نہیں بلکہ اپنی وسیع تر خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون تصور کرتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان نے افریقی براعظم میں اپنے سفارتی نیٹ ورک کو وسعت دی ہے جبکہ تجارت، تعلیم، صحت، دفاع اور استعداد کار میں اضافے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے پاکستان اور افریقی ممالک کے درمیان ثقافتی روابط کے فروغ پر زور دیتے ہوئے افریقی ثقافت، موسیقی اور ورثے کے فروغ کے لیے ایک مشترکہ فورم قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افریقی ثقافت، موسیقی اور ان قدیم قبائل کے بارے میں مزید جاننا چاہتا ہے جو آج بھی افریقہ کے مختلف خطوں میں اپنی روایات کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

کھیلوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ کھیلوں کی کوئی زبان نہیں ہوتی اور یہ دنیا بھر کے لوگوں کو قریب لانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افریقی ٹیموں کی حمایت کرے گا جو بین الاقوامی مقابلوں، اولمپکس اور عالمی سطح کے دیگر ایونٹس میں ہمیشہ شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتی رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افریقہ آج ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے، جہاں دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادی، تیزی سے ترقی کرتی معیشتیں، بڑھتی ہوئی شہری آبادی اور ٹیکنالوجی کا بڑھتا ہوا استعمال اسے عالمی معیشت کے سب سے متحرک خطوں میں شامل کر رہا ہے۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ یہ وہی افریقہ ہے جس کا خواب عظیم رہنما Nelson Mandela نے دیکھا تھا۔ انہوں نے منڈیلا کے اس تصور کا حوالہ دیا جس میں ایک پُرامن، ترقی یافتہ اور لامحدود امکانات سے بھرپور افریقہ کی بات کی گئی تھی۔

اپنے خطاب کے اختتام پر وفاقی وزیر اطلاعات نے افریقہ ڈے کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ افریقہ کی داستان حوصلے، عزم اور ترقی کی داستان ہے اور پاکستان و افریقہ کے درمیان دوستی اور تعاون کا رشتہ مستقبل میں مزید مضبوط ہوگا۔