اے آئی گاڈ فادرجیفری ہنٹن کی اے آئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے تشویشناک پیشگوئیاں

Calender Icon جمعرات 6 اگست 2026

رجیفری ہنٹن نے 2024 میں اے آئی ٹیکنالوجی پر کیے جانے والے کام پر فزکس کا نوبیل انعام جیتا تھا۔کینیڈا کی ٹورنٹو یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے جیفری ہنٹن نے انتباہ کیا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی جتنی زیادہ اسمارٹ ہوگی، انسانیت کے لیے اسے کنٹرول کرنا اتنا زیادہ مشکل ہوتا جائے گا۔

انہوں نے اے آئی ایجنٹس کی جانب سے حالیہ دنوں میں حقیقی دنیا کی کمپنیوں کی ہیکنگ پر بھی خدشات کا اظہار کیا۔اوپن اے آئی اور انتھروپک کے بعد میٹا کے اے آئی ماڈل نے ٹیسٹنگ کے دوران ایک کمپنی کو ہیک کرلیا

اے آئی ٹیکنالوجی پر ہونے والی ایک کانفرنس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے جیفری ہنٹن نے کہا کہ ‘ایسا اس وقت ہوا جب یہ سسٹم زیادہ اسمارٹ ہو رہے ہیں، میرے خیال میں جیسے جیسے وہ مزید اسمارٹ ہوں گے، ویسے ویسے ہم ایسے مزید پیچیدہ واقعات کو دیکھیں گے اور ان کی کنٹرول سے باہر نکلنے کی صلاحیت اتنی زیادہ بہتر ہوگی۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہم لوگ ایسے بہت زیادہ اسمارٹ اے آئی ماڈلز پر انحصار یا اعتبار نہیں کرسکیں گے۔انہوں نے بتایا کہ میں اس بات پر یقین نہیں رکھنا کہ ہم سادہ طریقے سے انہیں کنٹرول کرسکتے ہیں یا سوچ سکتے ہیں کہ وہ کنٹرول سے باہر نہیں نکلیں گے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں کے دوران اوپن اے آئی، انتھروپک اور میٹا کی جانب سے اعتراف کیا گیا ہے کہ ان کے اے آئی ماڈلز نے کنٹرول ماحول سے خود باہر نکل کر دیگر کمپنیوں کے سسٹمز کو ہیک کیا۔

جیفری ہنٹن نے ان واقعات کو کسی حد تک خوفناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو بس اے آئی ہیکنگ کا آغاز ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میرے خیال میں ایسے متعدد سائبر اٹیکس سامنے آسکتے ہیں، مگر اس حوالے سے مستقبل غیریقینی ہے، لوگ کہتے ہیں کہ دفاع کرنے والوں کے پاس حملہ آور سے زیادہ وسائل ہیں، مگر مسئلہ یہ ہے کہ حملہ آور کو بس ایک بار کامیاب ہونا ہوتا ہے جبکہ دفاع کرنے والوں کو ہر وقت کامیاب ہونا ہوتا ہے’۔

جیفری ہنٹن اس سے قبل بھی اے آئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے انتباہی پیشگوئیاں کر چکے ہیں، بلکہ ایک بار تو انہوں نے کہا تھا کہ ایسا 10 سے 20 فیصد امکان ہے کہ یہ ٹیکنالوجی بتدریج انسانیت کا خاتمہ کرسکتی ہے۔ اے آئی کے خطرات کے حوالے سے بات کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ اس حوالے سے غیریقینی صورتحال ذہنوں کے ساتھ کھیل رہی ہے کیونکہ کوئی بھی نہیں جانتا کہ مستقبل میں کیا ہوگا، اگر آپ پوچھیں کہ آئندہ 10 برسوں میں اے آئی ٹیکنالوجی کیسی ہوگی، تو کسی کو بھی اس کا درست اندازہ نہیں۔

اس سے قبل اگست 2025 میں ایک پوڈ کاسٹ سے بات کرتے ہوئے جیفری ہنٹن نے کہا تھا کہ اے آئی نہ صرف اس طرح چیزوں کو سیکھ رہی ہے جو ہم مکمل طور پر سمجھ نہیں پا رہے بلکہ ایسا کوئی طریقہ نہیں جس سے ہم اسے سوئچ آف کرسکیں۔

جیفری ہنٹن کے تحقیقی کام نے مشین لرننگ کی بنیاد رکھی تھی اور یہ وہ ٹیکنالوجی ہے جس سے کمپیوٹرز کو انسانی ذہانت کی نقل کرنے میں مدد ملی۔

مگر وہ گزشتہ چند برسوں سے اے آئی ٹیکنالوجی کو محفوظ بنانے کی مہم چلا رہے ہیں۔

جیفری ہینٹن نے 2023 میں انہوں نے گوگل کی ملازمت کو یہ کہہ کر چھوڑ دیا تھا کہ برے عناصر اس ٹیکنالوجی کو دیگر افراد کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

کچھ عرصے قبل ایک انٹرویو میں جب ان سے اے آئی میں پیشرفت کے حوالے سے پوچھا گیا کہ تو ان کا کہنا تھا کہ ‘اس وقت اس شعبے کے بیشتر ماہرین کا خیال ہے کہ کچھ وقت بعد ممکنہ طور پر اگلے 20 برسوں کے اندر ہم ایسے اے آئی سسٹمز تیار کرلیں گے جو انسانوں سے زیادہ ذہین ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ‘یہ خوفزدہ کر دینے والا خیال ہے، ابھی آپ ایسا سوچ سکتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی کسی 3 سالہ بچے کی طرح ہے اور بچے بہت تیزی سے بڑے ہوتے ہیں۔جیفری ہنٹن کے مطابق ان کے خیال میں اے آئی سے دنیا پر مرتب اثرات صنعتی انقلاب سے ملتے جلتے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ صنعتی انقلاب کی وجہ سے انسانی مضبوطی ایک جگہ رک گئی کیونکہ ہم زیادہ طاقتور مشینوں پر انحصار کرنے لگے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ اب ہم کچھ ایسا دوبارہ کر رہے ہیں جو انسانی ذہانت کی جگہ لے گا اور عام انسانی ذہانت مزید پیشرفت نہیں کرسکے گی بلکہ مشینیں آگے بڑھیں گی۔

جب ان سے پوچھا کہ ان کے خیال میں اگلے 10 یا 20 سال بعد زندگی کیسی ہوگی تو ان کا کہنا تھا کہ اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ہمارے سیاسی نظام اس ٹیکنالوجی کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں:تھائی لینڈ: میچ کے دوران آسمانی بجلی گرنے سے 24 سالہ فٹبالر ہلاک

ان کے خیال میں اس ٹیکنالوجی سے طبی شعبے میں حیرت انگیز اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور یہ لگ بھگ ہر صنعت کی افادیت بڑھا سکتی ہے، مگر اس کی پیشرفت کے حوالے سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔