چین کی وزارتِ ریاستی سلامتی نے دعویٰ کیا ہے کہ غیر ملکی خفیہ ایجنسیاں چین کے علاقائی پانیوں اور اس کے اردگرد سمندری علاقوں کی نگرانی کے لیے سینسرز سے لیس “جاسوس” جانور استعمال کر رہی ہیں۔
بیجنگ نے اس صورتحال کو “غیر مرئی خفیہ جنگ” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ “جاسوس کچھوے” اور “جاسوس مچھلیاں” سمیت مختلف سمندری جانور حساس معلومات جمع کرنے اور زیرِ آب خطرات پیدا کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس مقصد کے لیے جاسوسی کے مختلف جدید آلات بھی تعینات کیے گئے ہیں۔چینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ جانور پانی کے درجہ حرارت، نمکیات اور سمندری دھاروں سمیت حساس سمندری ماحول سے متعلق معلومات حقیقی وقت میں جمع کرتے ہیں اور پھر انہیں سیٹلائٹ کے ذریعے بیرونِ ملک منتقل کرتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:افریقہ عالمی معیشت کے سب سے متحرک خطوں میں ابھر رہا ہے، عطاء اللہ تارڑ
وزارت کے مطابق بعض بوائز (Buoys) بھی دریافت کیے گئے ہیں جو موسمیاتی سینسرز سے لیس تھے اور چینی آبدوزوں کی آوازوں یا صوتی نشانات (Acoustic Signatures) کو حقیقی وقت میں ٹریک کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
تاہم وزارت نے یہ نہیں بتایا کہ مبینہ جاسوس جانور کہاں سے ملے یا انہیں کس ملک یا ادارے نے تعینات کیا تھا۔
بیان میں “ویو گلائیڈرز” (Wave Gliders) نامی ایک نئی ٹیکنالوجی کا بھی ذکر کیا گیا، جو شمسی توانائی اور سمندری لہروں کی حرکت سے چلتی ہے اور فوجی نوعیت کے سمندری ماحولیاتی ڈیٹا اور بحری جہازوں کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات منتقل کر سکتی ہے۔
چینی حکام کے مطابق 2024 میں سمندر کی تہہ میں چھپے ہوئے ایسے لائٹ ہاؤسز بھی دریافت کیے گئے تھے جو غیر ملکی آبدوزوں کی رہنمائی اور ممکنہ عسکری کارروائیوں کے لیے پیشگی تیاری کے طور پر استعمال کیے جا سکتے تھے۔
وزارت کا کہنا ہے کہ بحیرہ جنوبی چین اور آبنائے تائیوان جیسے انتہائی حساس سمندری علاقے اس قسم کی خفیہ جاسوسی سرگرمیوں کا خاص ہدف بنے ہوئے ہیں۔
چینی حکومت نے ایسے جاسوسی آلات کی نشاندہی اور اطلاع دینے والے ماہی گیروں کے لیے 50 ہزار سے 5 لاکھ یوآن تک انعام مقرر کر رکھا ہے۔
یاد رہے کہ 2023 میں برطانیہ نے بھی انکشاف کیا تھا کہ روس نے کریمیا میں سیواستوپول کے بحیرہ اسود کے بحری اڈے پر تربیت یافتہ بوتل نوز ڈولفنز تعینات کر رکھی تھیں۔












ہفتہ 13 جون 2026 