اسلام آباد ، کراچی میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملے میں افغان شہریوں (Afghan Citizens)کے ملوث ہونے کے ناقابلِ تردید شواہد سامنے آنے کے بعد پاکستانی دفتر خارجہ نے افغان طالبان حکومت کے خلاف سخت ترین سفارتی ایکشن لیا ہے۔
پاکستان نے افغان حکومت کے سامنے شدید احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے دو ٹوک مطالبہ کیا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے فوری روکا جائے۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے میڈیا کو بتایا کہ گزشتہ شب افغانستان کے ناظم الامور کو ہنگامی طور پر دفترِ خارجہ طلب کیا گیا اور ان کے سامنے کراچی حملے پر پاکستان کی شدید تشویش اور سخت احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔
اسی نوعیت کا ایک سخت احتجاجی مراسلہ افغانستان میں تعینات پاکستانی سفیر عبید الرحمان نظامانی نے کابل میں افغان وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ حکام کے حوالے کیا۔
دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ سفارتی احتجاج محض الزامات پر مبنی نہیں بلکہ ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کیا گیا، کراچی حملے میں ملوث افغان شہریوں میں سے ایک دہشت گرد کو سکیورٹی فورسز نے موقع پر زندہ گرفتار کیا۔
تفتیش کے دوران اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں، اس واقعے سے ایک بار پھر یہ حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ افغان سرزمین اور افغان شہریوں کو پاکستان کے اندر دہشت گردی کی خونریز کارروائیوں کی منصوبہ بندی، سہولت کاری اور ان پر عمل درآمد کے لیے مسلسل استعمال کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:ملک بھر کے بینک اور مالیاتی ادارے یکم جولائی کو بند رہیں گے
ترجمان دفترِ خارجہ نے واضح کیا کہ سرحد پار افغان سرزمین سے ہونے والے یہ مسلسل حملے علاقائی امن کے لیے شدید خطرہ ہیں، پاکستان نے طالبان انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی کرے اور اپنی سرزمین کو پڑوسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے وعدوں کو پورا کرے۔












پیر 29 جون 2026 