یورپ(europe) میں شدید گرمی کی لہر برقرار رہی جب کے باعث اموات چار ہزار سے بڑھ گئیں۔
ریکارڈ توڑ درجہ حرارت نے روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے جبکہ حکام نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
فرانس میں گرمی کی شدت نے رواں سال کی بلند ترین سطح کو چھو لیا، جہاں شدید موسم کے باعث دو ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے، طبی مراکز پر مریضوں کا دباؤ بڑھ گیا ہے اور حکومت نے ہنگامی اقدامات نافذ کرتے ہوئے بزرگوں، بچوں اور بیمار افراد کی خصوصی دیکھ بھال کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دوسری جانب سپین اور بیلجیئم میں بھی شدید گرمی تباہ کن ثابت ہوئی جہاں ایک ایک ہزار سے زائد اموات رپورٹ کی گئی ہیں، دونوں ممالک میں جنگلاتی آگ کے خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے جبکہ کئی علاقوں میں صحت عامہ کے الرٹ جاری کر دیئے گئے ہیں۔
مزیدپڑھیں:ومبلڈن اوپن ٹینس: سربیئن ٹینس سٹار نواک جوکووچ کوارٹر فائنل میں پہنچ گئے
ادھر برطانیہ میں بھی گرمی کی شدت برقرار ہے جس کے پیش نظر محکمہ موسمیات نے تیسری ہیٹ ویو وارننگ جاری کر دی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مستقبل میں اس نوعیت کی شدید گرمی کی لہریں مزید عام ہو سکتی ہیں، جس سے انسانی صحت، ماحول اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔












پیر 6 جولائی 2026 