یورپی انٹیلی جنس رپورٹ میں 2026ء میں روس میں بڑے اور سنگین بینکاری بحران(Banking Crises) کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق روس کی جنگی معیشت کا مالی بوجھ بڑی حد تک روسی بینکوں پر منتقل ہوچکا ہے، اس لیے روس کو سنگین بینکاری بحران کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ دفاعی شعبے، رہائشی قرضے اور سرکاری منصوبوں کےلیے رعایتی قرضوں کی فراہمی کے باعث روس میں بینکوں کے مالی خطرات بڑھ گئے ہیں۔
یورپی انٹیلی جنس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ گھریلوں قرضوں اور دیوالیہ پن کے بڑھتے رجحان نے روسی معاشی نظام کو مزید کمزور بنادیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کارپورٹ قرضے 10 فیصد مشکوک ہوچکے ہیں جبکہ بعض بڑے بینکوں میں قرضوں پر شرح سود 15 فیصد تک پہنچ چکی ہےجبکہ 2026ء میں 5 لاکھ روسیوں نے دیوالیہ پن کا اعلان کیا تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ روسی حکومت کی مالی معاونت، قرضوں کی ترتیب نو اور سرکاری ضمانت والے پروگرام بینکوں کی حقیقی مالی مشکلات کو وقتی طور پر سہارا دے رہے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اگر یورپی یونین روسی بینکوں پر مزید سخت پابندیاں لگاتی ہے تو صورتحال بڑے مالی بحران میں بدل جائے گی۔
اس معاملے میں روسی مرکزی بینک نے رپورٹ میں موجود خدشے کو مسترد کیا اور موقف اختیار کیا کہ بینکوں کا سرمایہ فعال ہے جبکہ مالیاتی شعبے کی کمزوریاں اس درجہ تشویشناک نہیں۔
مزید پڑھیں:سانحہ بلدیہ فیکٹری: کمزور استغاثہ، سزائے موت کے 2 ملزمان بری، تفصیلی فیصلہ
میڈیا رپورٹ کے مطابق یورپی یونین اگرچہ روس پر مزید پابندیوں کی تیاری کر رہی ہے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ روسی معیشت دفاعی اخراجات، ریاستی کنٹرول اور ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارتی روابط کی بدولت بحران سے محفوظ ہے۔












پیر 6 جولائی 2026 