نیب کراچی کی بڑی کارروائی، کروڑوں مالیتی ضبط شدہ جائیدادیں حکومت کے حوالے

Calender Icon پیر 6 جولائی 2026

کراچی: قومی احتساب بیورو (NAB Karachi)نے بدعنوانی اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کے مقدمے میں سزا یافتہ سابق رکن قومی اسمبلی عبدالعزیز اور ان کی اہلیہ سے ضبط کی گئی کروڑوں روپے مالیت کی چار قیمتی جائیدادیں حکومت پاکستان کے اسٹیٹ آفس کے حوالے کر دیں۔

عدالت نے 28 جون 2002 کو فیصلہ سناتے ہوئے عبدالعزیز اور ان کی اہلیہ کو سات، سات سال قیدِ بامشقت، ایک، ایک ملین روپے جرمانہ اور چار جائیدادوں کی ضبطی کی سزا سنائی تھی۔

سزا یافتہ ملزمان نے سندھ ہائی کورٹ اور بعد ازاں سپریم کورٹ میں فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر کیں، تاہم دونوں عدالتوں نے اپیلیں مسترد کر دیں۔

جس کے بعد نیب نے عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے جائیدادوں کا قبضہ حاصل کر لیا۔ضبط شدہ جائیدادوں میں ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کراچی میں واقع ایک رہائشی مکان، کے ڈی اے اسکیم اے-1 ایکسٹینشن کا ایک پلاٹ اور ہاکس بے اسکیم 42 میں لیاری ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دو پلاٹس شامل ہیں۔

نیب کراچی میں پیر کے روز منعقدہ ایک تقریب کے دوران ڈی جی نیب کراچی شکیل احمد درانی نے ان جائیدادوں کا قبضہ وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے ڈائریکٹر جنرل اسٹیٹ عبید الدین کے حوالے کیا۔

مزید پڑھیں:گروپ کیپٹن عاصم طارق کے شاطر قاتل کی گرفتاری میں نئے انکشافات

اس موقع پر ڈی جی نیب کراچی شکیل احمد درانی نے کہا کہ نیب لوٹی گئی قومی دولت کی واپسی اور اسے ریاستی اداروں اور متاثرہ فریقین تک پہنچانے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ کی قیادت میں ادارہ بدعنوانی کے خاتمے، قومی اثاثوں کے تحفظ اور احتساب کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے بھرپور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے