کور کمانڈرز کانفرنس، پاکستان کے آبی و قومی مفادات کے ہر قیمت پر تحفظ کا اعلان، آئی ایس پی آر

Calender Icon پیر 6 جولائی 2026

راولپنڈی: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرأت، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کی زیر صدارت جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) میں 276ویں کور کمانڈرز کانفرنس(Cor commander Confrence) منعقد ہوئی، جس میں ملک کی داخلی و خارجی سکیورٹی صورتحال، دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں، علاقائی استحکام اور قومی سلامتی سے متعلق اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

کانفرنس کے آغاز میں وطن کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ فورم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہداء کی لازوال قربانیاں پاکستان کی سلامتی، اتحاد اور استقامت کی بنیاد ہیں اور قوم ہمیشہ ان کی قربانیوں کی مقروض رہے گی۔

فورم نے افغان طالبان کے زیرِ کنٹرول علاقوں سے پاکستان کے خلاف بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کی منصوبہ بندی، سہولت کاری اور مسلسل کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ شرکاء نے واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام اسی صورت ممکن ہے جب افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے۔

کور کمانڈرز کانفرنس نے کہا کہ افغان طالبان کی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے زیرِ انتظام علاقوں کو دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکے۔ فورم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اپنی عوام کے تحفظ اور قومی دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔

کانفرنس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاک فوج **آپریشن “غضب للحق”** کے تحت انٹیلی جنس بنیادوں پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں پوری قوت سے جاری رکھے گی۔ شرکاء نے دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں مؤثر طرزِ حکمرانی، عوامی فلاح اور مضبوط انتظامی نظام کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ دہشت گردی، جرائم اور ان کے سہولت کاروں کے گٹھ جوڑ کا خاتمہ کیا جا سکے۔

فورم نے کہا کہ **معرکۂ حق** میں ناکامی کے بعد دشمن اب ہائبرڈ وارفیئر، جھوٹے بیانیے اور بیرونی معاونت کے ذریعے پاکستان میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم ایسی ہر سازش کو پوری قوت سے ناکام بنایا جائے گا۔

کور کمانڈرز نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کے تعمیری سفارتی کردار کو سراہا۔ اجلاس میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے سے متعلق حالیہ بیانات کا بھی جائزہ لیا گیا اور واضح کیا گیا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے 24 اپریل 2025 کے فیصلے اس حوالے سے پاکستان کی پالیسی کی مکمل رہنمائی کرتے ہیں۔ فورم نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا کہ افواجِ پاکستان حکومتی ہدایات اور عوامی امنگوں کے مطابق پاکستان کے جائز آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گی۔

کانفرنس میں مسئلہ کشمیر پر بھی پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور خطے میں دیرپا امن کا انحصار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو ان کا ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت دینے پر ہے۔

مزید پڑھیں:ماضی سے بہت کچھ سیکھا، اس بار بہتر پلاننگ کیساتھ لیڈ کرونگا: بابر اعظم

اختتام پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تمام فارمیشن کمانڈرز کو ہدایت کی کہ جنگ کے بدلتے تقاضوں کے مطابق **ملٹی ڈومین ٹرانسفارمیشن پلان** پر تیزی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور ہر قیمت پر پاکستان کی خودمختاری، قومی مفادات اور سلامتی کا دفاع کیا جائے۔