راج پال یادو کی اہلیہ رادھا یادو بھی شریک ملزم ،دلی ہائیکورٹ نے بالی ووڈ اداکار راج پال یادو کو چیک باؤنس ہونے سے متعلق کیس میں تین ماہ قید کی سزا سُنا دی ہے۔
راج پال یادو کے خلاف یہ کیس دائر کرنے والی کمپنی کے وکیل کے مطابق ’دلی ہائیکورٹ کی جج جسٹس سورنا کانتا (Justice Sorna kanta)نے چیک باؤنس کیس میں ماتحت عدالتوں کی جانب سے راج پال یادو کو اس معاملے میں قصور وار قرار دینے کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے انھیں حکم دیا ہے کہ وہ شکایت کنندہ کو رقم کی ادائیگی کریں۔‘
یاد رہے کہ سنہ 2010 میں راج پال یادو نے اپنی ایک فلم ’اتا، پتا، لاپتہ‘ کے لیے ’مرلی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ‘ نامی ایک پرائیوٹ کمپنی سے تقریباً پانچ کروڑ کا قرض لیا تھا۔
تاہم یہ فلم باکس آفس پر کامیاب نہ ہو سکی اور مبینہ طور پر اداکار کی سرمایہ کاری ڈوب گئی، جس کی وجہ سے وہ کمپنی کو رقم واپس کرنے میں ناکام رہے۔
ماضی میں ہونے والی عدالتی کارروائی کے مطابق راجپال یادو نے بار بار پیسوں کی واپسی کی یقین دہانی کروائی مگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے، اس دوران عدالتیں بھی اُن کے خلاف احکامات جاری کرتی رہیں مگر انھوں نے بروقت ان احکامات پر عمل نہ کیا۔
بعدازاں راجپال یادو کی طرف سے کمپنی کو دیے گئے سات چیکس باؤنس ہوئے، جس کے بعد اُن کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کیا گیا تھا اور سنہ 2018 میں پہلی بار دہلی کی ایک عدالت نے انھیں اس کیس میں قصوروار ٹھہراتے ہوئے چھ ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔
مزید پڑھیں:موبائل فون کا استعمال ریڑھ کی ہڈی، جلد اور بینائی کیسے متاثر کرتا ہے؟
اس کے اگلے برس یہ مقدمہ دہلی ہائیکورٹ گیا، جہاں عدالت نے اُن کی سزا پر حکم امتناع جاری کر دیا۔












جمعہ 10 جولائی 2026 