نئی دہلی میں افغان وزیر زراعت مولوی عطاء اللہ عمری(Attaullah Omari) کا افغانستان اور بھارت کا ڈی این اے ایک قرار دینا عکاس ہے، کہ یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔
طالبان رجیم کے وزیر کے بیان سے اس موقف کو تقویت ملتی ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں بھارت اور افغانستان کا مرکزی کردار ہے۔
بھارتی جریدہ دی اکنامک ٹائمز کے مطابق افغان وزیر زراعت مولوی عطااللہ عمری نے کہا کہ مجھے ہرگز یہ احساس نہیں ہوا کہ میں کسی غیر ملک میں ہوں، مجھے یوں لگا جیسے یہ ہمارا اپنا ہی ملک ہو، افغان وزیر زراعت مولوی عطااللہ عمری نے کہا کہ افغانستان اور بھارت کا ڈی این اے ایک ہے۔
مزیدپڑھیں:اسرائیل لبنان جنگ بندی پر عمل درآمد کیلئے امریکی فوجی وفد بیروت پہنچ گیا
ماہرین کے مطابق یقیناً بھارت اور افغانستان کے ڈی این میں مماثلت ہے، کیونکہ مودی کی پشت پناہی اور طالبان رجیم کی سرپرستی میں پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دیا جا رہا ہے، مظلوم کشمیریوں اورفلسطینیوں پر مظالم پر ہمیشہ خاموش رہنے والی طالبان رجیم محض چند پیسوں کی خاطر بھارت سے ڈی این اے ملا کر اسلامی روایات سے مکمل منحرف ہو چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں پر مظالم جبکہ طالبان رجیم کے غیر قانونی اقتدار میں مسلمانوں کو کافر قرار دے کر قتل دونوں کے ڈی این میں مماثلت کی نشاندہی کرتا ہے، جبکہ مودی کی جانب سے اسرائیل کو فادر لینڈ قرار دیا جا چکا ہے، ایک ڈی این اے کا بیان افغانستان، بھارت اوراسرائیل کی نظریاتی قربت اور ایک شجرہ نسب کا عکاس ہے۔












ہفتہ 11 جولائی 2026 