اسلام آباد: معروف سابق کرکٹر ثقلین مشتاق کے نام سے متعارف کرائے گئے رہائشی منصوبے **ثقلین مشتاق ہائٹس** کے متاثرین نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ یا تو ان کی جمع کرائی گئی رقوم موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق فوری واپس کی جائیں یا منصوبہ مکمل کرکے اپارٹمنٹس کا قبضہ دینے کے لیے واضح، تحریری اور مقررہ مدت پر مشتمل شیڈول جاری کیا جائے۔
متاثرین نے بتایا کہ منصوبے کی بکنگ کا آغاز 2016 کے آخر اور 2017 کے اوائل میں کیا گیا تھا، تاہم تقریباً دس برس گزرنے کے باوجود نہ صرف خریداروں کو اپارٹمنٹس کا قبضہ نہیں ملا بلکہ متعدد ٹاورز کا گرے اسٹرکچر بھی مکمل نہیں ہو سکا۔
ان کے مطابق بحریہ ٹاؤن فیز 8 راولپنڈی میں 50 کنال اراضی پر مشتمل اس منصوبے کو سات ٹاورز، 550 اپارٹمنٹس، پینٹ ہاؤسز اور ڈبل بیسمنٹ پارکنگ پر مشتمل جدید رہائشی منصوبے کے طور پر پیش کیا گیا تھا، جبکہ ادائیگی کے لیے ساڑھے تین سالہ اقساط کا پلان بھی دیا گیا تھا۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ منصوبے کی مارکیٹنگ اور فروخت میں خالد اعوان اور ان کی کمپنی بھی شریک رہی، جبکہ ثقلین مشتاق نے بطور چیئرمین منصوبے کی نگرانی اور خریداروں سے کیے گئے وعدوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
پریس کانفرنس کے دوران متاثرین نے منصوبے کا اصل بروشر، بکنگ ریکارڈ، ادائیگیوں کی تفصیلات، انتظامیہ کی جانب سے جاری خطوط، قبضے سے متعلق تحریری یقین دہانیاں اور منصوبے کی موجودہ تصاویر و ویڈیوز میڈیا کے سامنے پیش کیں۔ ان کے مطابق بروشر میں ثقلین مشتاق کے دستخط شدہ پیغام میں شفافیت، دیانت داری، اعلیٰ معیار اور بروقت منصوبے کی تکمیل کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔
متاثرین نے بتایا کہ منصوبہ جون 2020 میں مکمل ہونا تھا، جبکہ 16 جنوری 2019 کے ایک تحریری خط میں انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ ٹاور نمبر 7 کے اپارٹمنٹس کا قبضہ 30 جون 2021 تک دے دیا جائے گا، بصورت دیگر خریداروں کو 30 روپے فی مربع فٹ ماہانہ کے حساب سے کرایہ بطور معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ تاہم ان کے بقول نہ قبضہ ملا اور نہ ہی کسی قسم کا معاوضہ ادا کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹاور نمبر 4، 5 اور 7 کے خریداروں سے مکمل یا جزوی رقوم وصول کی گئیں، مگر ٹاور 4 اور 5 پر تعمیراتی کام شروع ہی نہیں ہوا جبکہ ٹاور 7 بھی آج تک مکمل گرے اسٹرکچر کے مرحلے تک نہیں پہنچ سکا۔
متاثرین کے مطابق 2020 سے وہ مسلسل انتظامیہ سے ملاقاتوں، فون کالز، واٹس ایپ پیغامات اور تحریری درخواستوں کے ذریعے منصوبے کی پیش رفت اور نئی ٹائم لائن طلب کرتے رہے۔ اگرچہ انتظامیہ نے مختلف خطوط میں تاخیر، بڑھتی لاگت اور مالیاتی مسائل کا اعتراف کرتے ہوئے جلد نیا روڈ میپ دینے کا وعدہ کیا، لیکن عملی طور پر کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ جنوری 2026 میں معلوم ہوا کہ اسی منصوبے کو موجودہ خریداروں کو اعتماد میں لیے بغیر **”المقیت ہائٹس”** کے نام سے دوبارہ مارکیٹ کیا جا رہا ہے اور ٹاور نمبر 7 کی بالائی منزلوں کے لیے نئی بکنگ بھی کی جا رہی ہے، جبکہ پرانے خریدار تقریباً ایک دہائی سے اپنے گھروں کے منتظر ہیں۔
متاثرین نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ ٹاور نمبر 4 کو نئی مارکیٹنگ میں **”Not Launched”** ظاہر کیا جا رہا ہے، حالانکہ ان کے پاس بکنگ معاہدے، ادائیگیوں کے ریکارڈ اور دیگر دستاویزات موجود ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ اس ٹاور کی بکنگ پہلے ہی ہو چکی تھی۔
مزید پڑھیں :بھارت نے نجی کمپنی کی مدد سےپہلا راکٹ مشن ’وکرم-1‘ خلاء میں بھیج دیا
پریس کانفرنس کے اختتام پر متاثرین نے ثقلین مشتاق، خالد اعوان اور منصوبے کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر اپنا واضح تحریری مؤقف سامنے لائیں اور یا تو منصوبہ مکمل کرکے خریداروں کو اپارٹمنٹس کا قبضہ دیں یا پھر موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق ان کی سرمایہ کاری فوری طور پر واپس کریں۔












ہفتہ 18 جولائی 2026 


