وفاقی حکومت نے قومی جیم اسٹون پالیسی 2026-30 کی منظوری دے دی

Calender Icon پیر 20 جولائی 2026

وفاقی حکومت نے پاکستان کے قیمتی اور نیم قیمتی پتھروں کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور اس کی برآمدی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے قومی جیم اسٹون پالیسی 2026-2030 کی منظوری دے دی ہے۔ پالیسی کے تحت ایک خودمختار نیشنل جیم اسٹون اتھارٹی (National Gemstone Authority) قائم کی جائے گی، جبکہ اس کے قیام اور ابتدائی اقدامات کے لیے وفاقی حکومت مالی معاونت بھی فراہم کرے گی۔

ذرائع کے مطابق وزارت صنعت و پیداوار نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں قیمتی اور نیم قیمتی پتھروں کے وسیع ذخائر موجود ہیں، جن کی تخمینہ مالیت 450 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ تاہم اس قدرتی دولت کے باوجود پاکستان کی سرکاری جیم اسٹون برآمدات انتہائی محدود ہیں اور سالانہ صرف 50 سے 70 لاکھ ڈالر تک رہتی ہیں، جو عالمی تجارت کا تقریباً 0.3 فیصد حصہ بنتی ہیں۔

وزارت کے مطابق اس شعبے کی 95 فیصد سے زائد تجارت غیر رسمی ذرائع سے ہو رہی ہے، جس کے باعث پاکستان کو زرمبادلہ، ٹیکس آمدن اور عالمی مارکیٹ میں اپنی پوزیشن بہتر بنانے کے مواقع سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔ حکام نے بتایا کہ شعبے کو غیر مؤثر انتظامی نظام، عالمی معیار کے سرٹیفکیشن اور ویلیوایشن کے فقدان، روایتی کان کنی کے باعث زیادہ ضیاع، مالی سہولتوں کی کمی اور بین الاقوامی منڈیوں تک محدود رسائی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

ان چیلنجز کے حل کے لیے وزیراعظم نے ستمبر 2025 میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی تھی، جس کی سفارشات کی بنیاد پر قومی جیم اسٹون پالیسی تیار کی گئی۔ پالیسی کی تیاری میں وفاقی و صوبائی اداروں، ریگولیٹری حکام، مالیاتی اداروں، تجارتی تنظیموں، صنعت کے نمائندوں اور عالمی ماہرین سے مشاورت کی گئی، جبکہ بھارت، تھائی لینڈ، سری لنکا اور میانمار جیسے ممالک کے کامیاب ماڈلز کا بھی جائزہ لیا گیا۔

نئی پالیسی کے تحت پاکستان جیمز اینڈ جیولری ڈیولپمنٹ کمپنی (Pakistan Gems and Jewellery Development Company) کو ضم کر کے ایک قانونی اختیارات رکھنے والی نیشنل جیم اسٹون اتھارٹی قائم کی جائے گی۔ یہ ادارہ شعبے کی نگرانی، کاروباری رجسٹریشن، سرٹیفکیشن، ٹریس ایبلٹی، تجارتی سہولت کاری اور قومی سطح پر جیم اسٹون کاروباری رجسٹری کے قیام کا ذمہ دار ہوگا۔

مزیدپڑھیں:فیفا ورلڈ کپ کی فاتح ہسپانوی ٹیم کا وطن واپسی پر شاندار استقبال کا شیڈول جاری

برآمدات کے معیار اور عالمی اعتماد میں اضافے کے لیے نیشنل وارنٹی آفس (National Warranty Office) بھی قائم کیا جائے گا، جو برآمدی کھیپ کی جانچ، قیمت کے تعین، سرٹیفکیشن اور سیلنگ کی خدمات فراہم کرے گا۔ یہ ادارہ پاکستان کسٹمز، پاکستان سنگل ونڈو، بینکوں اور کوریئر کمپنیوں کے ساتھ رابطے میں کام کرے گا تاکہ برآمدی عمل کو شفاف اور محفوظ بنایا جا سکے۔

پالیسی میں جیم اسٹونز کی برآمدات بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات شامل کیے گئے ہیں، جن میں کم از کم برآمدی قیمتوں کا تعین، پاکستان کے لیے مخصوص ایچ ایس کوڈز، قومی جیم اسٹون بزنس رجسٹری، عارضی برآمدات کی سہولت، ریفنڈ نظام، ای کامرس کے ذریعے تجارت اور اسٹیٹ بینک کے تعاون سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام شامل ہے۔

حکومت نے جدید کان کنی کے فروغ، مشینری رینٹل پول کے قیام، ڈیمانسٹریشن مائنز، کان کنی میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، ضابطہ بند طریقے سے دھماکہ خیز مواد تک رسائی، کٹنگ اور پالشنگ مراکز کی توسیع اور ہنرمند افرادی قوت کی تیاری پر بھی توجہ مرکوز کی ہے۔

وزارت صنعت و پیداوار کے مطابق پالیسی کا اہم ہدف 2030 تک پاکستان کی جیم اسٹون برآمدات کو بڑھا کر 50 کروڑ ڈالر سالانہ تک پہنچانا، غیر رسمی تجارت میں کمی لانا، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرنا، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد جموں و کشمیر جیسے علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔

حکام کے مطابق اس پالیسی کی اصولی منظوری وزیراعظم نے 9 جنوری 2026 کو دی تھی، جبکہ تمام متعلقہ اداروں اور اسٹیک ہولڈرز نے بھی اس کی حمایت کی ہے۔