جنوبی کوریا میں لاشوں کی جِلد کا سدا بہار جوانی کیلئے استعمال کا انکشاف

Calender Icon پیر 27 جولائی 2026

عمر میں اضافہ ایسا عمل ہے جس کو روکنا کسی کے لیے ممکن نہیں اور ہر گزرتے برس کے ساتھ بڑھاپے کے آثار قدرتی طور پر نمایاں ہوتے ہیں۔لگ بھگ ہر فرد کی خواہش ہوتی ہے کہ جوانی ہمیشہ برقرار رہے مگر جنوبی کوریا میں تو اس کا عجیب حل دریافت کیا گیا ہے۔

درحقیقت وہاں کے رہائشیوں کے خیال میں سدا بہار جوانی کا راز قبرستان میں چھپا ہوا ہے۔جی ہاں واقعی جنوبی کوریا میں ہمیشہ جوان رہنے کے لیے لاشوں کی عطیہ کردہ جِلد کو استعمال کیا جا رہا ہے۔

اس متنازع طریقہ کار کو متعارف کرانے والی کمپنی نے اسے ریٹرن ٹو یورز ٹوئنٹیز (آر ای 2 او) کا نام دیا گیا جس میں لاشوں کی جِلد کو انجیکشن کے ذریعے زندہ افراد کے چہروں کا حصہ بنایا جاتا ہے۔

اس طریقہ کار میں مردہ افراد کی عطیہ کی گئی جِلد کو لیبارٹری میں بھیجا جاتا ہے اور اس میں موجود خلیاتی مواد کو نکال لیا جاتا ہے اور باقی حصے کی صفائی کی جاتی ہے۔

حتمی پراڈکٹ میں انسانی کولیگن، ایلیسٹن، hyaluronic ایسڈ اور دیگر کو شامل کیا جاتا ہے جبکہ جن افراد میں انہیں داخل کیا جاتا ہے ان کی جِلد کے خلیات کو بھی شامل کیا جاتا ہے تاکہ وہ آسانی سے انہیں استعمال کرنے والے افراد کے جسموں سے منسلک ہوسکے۔

کوریا کے ڈی او ڈی ڈرماٹولوجی کلینک کے ماہر کِم ہان سیم کے مطابق ‘یہ ایسے جِلدی ٹشوز ہوتے ہیں جن سے تمام خلیات کو نکال دیا جاتا ہے تاکہ آپ کا جسم انہیں مسترد نہ کرے اور نہ ہی الرجک ری ایکشن کا سامنا ہو۔

جب اس پراڈکٹ کو چہرے اور گردن میں شامل کیا جاتا ہے تو ہلکی جھریوں سے نجات پانے، مسام کو چھوٹا رکھنے اور جسم کے اپنے خلیات کو نیا بنانے میں مدد ملتی ہے یا کم از کم کمپنی کا تو یہی دعویٰ ہے۔

اس طرح جِلد کے ہارمونز جیسے الیسٹین اور کولیگن بننے کا عمل متحرک ہوتا ہے جبکہ اندرونی بنیاد کی دوبارہ تعمیر ہوتی ہے۔اب تک بیشتر افراد نے اس کے نتائج کو متاثر کن قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا سائٹ ریڈیٹ پر ایک صارف نے اس حوالے سے بتایا کہ ٹریٹمنٹ کے دوسرے ہفتے کے اختتام پر چہرے پر نمایاں تبدیلیاں آئیں اور پہلے سے زیادہ ملائم ہوگیا۔

مگر کچھ ناقدین نے اس حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کس حد تک اخلاقی طور پر درست ہے کہ لاشوں کے ٹشوز کو کاسمیٹک بہتری کے لیے استعمال کیا جائے۔

مزید پڑھیں:نوجوانوں میں جان لیوا سروائیکل کینسر کیسز میں تشویشناک اضافہ ریکارڈ

اخلاقیات سے ہٹ کر ابھی تک طویل المعیاد بنیادوں پر اس طریقہ کار کے محفوظ ہونے کے حوالے سے بھی تحفظات موجود ہیں۔جنوبی کوریا سے ہٹ کر سنگاپور اور جاپان میں بھی یہ طریقہ کار لوگوں کو دستیاب ہے۔