ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کی شکست نے ایک بار پھر دوسری اننگز میں بیٹنگ کی سنگین خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔
پہلی اننگز میں 63 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلنے والے امام الحق دوسری اننگز میں صرف چند گیندیں ہی کھیل سکے اور کیمار روچ کی شارٹ آف لینتھ گیند پر غیر ضروری شاٹ کھیلتے ہوئے وکٹ گنوا بیٹھے۔
ان کی وکٹ نے اس سوال کو دوبارہ زندہ کر دیا کہ پاکستانی بیٹرز دباؤ میں اپنی حکمت عملی برقرار رکھنے میں کیوں ناکام رہتے ہیں۔ اعداد و شمار بھی اس مسئلے کی تصدیق کرتے ہیں۔
گزشتہ دو برسوں میں امام الحق کی پہلی اننگز میں اوسط 54.50 رہی لیکن دوسری اننگز میں یہ صرف 3.50 تک گر گئی۔اسی طرح محمد رضوان اور سعود شکیل کی اوسط میں بھی دوسری اننگز کے دوران نمایاں کمی دیکھی گئی جو پوری بیٹنگ لائن کی ذہنی اور تکنیکی مشکلات کی عکاسی کرتی ہے۔
ہیڈ کوچ سرفراز احمد نے اعتراف کیا کہ دوسری اننگز میں بیٹنگ ٹیم کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ان کے مطابق بیٹرز سے مسلسل بات چیت کی جا رہی ہے مگر ٹیم دباؤ میں اچانک بکھر جاتی ہے جس کا خمیازہ پورے میچ میں بھگتنا پڑتا ہے۔
گزشتہ دو برسوں میں ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کھیلنے والی تمام ٹیموں میں پاکستان کی دوسری اننگز کی بیٹنگ اوسط صرف 19.90 رہی جو سب سے کم ہے۔اسی عرصے میں پاکستان نے 14 میں سے 10 ٹیسٹ میچ ہارے جن میں بیرون ملک مسلسل آٹھ شکستیں بھی شامل ہیں۔
مزید پڑھیں:یو اے ای ویزا بندش، برآمد ت کو دھچکا، تاجروں کا سفارتی مداخلت کا مطالبہ
ماہرین کے مطابق جب تک بیٹنگ لائن دوسری اننگز میں مستقل مزاجی کا مظاہرہ نہیں کرتی پاکستان کے لیے غیر ملکی میدانوں میں کامیابی حاصل کرنا انتہائی مشکل رہے گا۔













جمعرات 30 جولائی 2026 

