راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر نے آزاد جموں و کشمیر سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے تمام شہری ریاست کے بچے ہیں، تاہم کشمیر پاکستان کا سب سے لاڈلا بچہ ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر وسائل کی تقسیم کی بات کی جائے تو کشمیر کو اس کا بڑا حصہ فراہم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ معاملہ قدرے مختلف انداز میں سامنے آیا، جہاں حقوق کے نام پر ایک مخصوص کھیل کھیلا گیا، تاہم اس کے اصل مقاصد اب واضح ہو چکے ہیں۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ایک ایجنڈا یہ بھی تھا کہ جموں و کشمیر کے مہاجرین کی نمائندگی نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ نمائندگی اس لیے نہیں کہ صرف اسمبلی نے فیصلہ کیا، بلکہ اس لیے بھی کہ ریاستی نظام اور آئینی طریقہ کار کے تحت یہ معاملہ طے کیا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ریاست نے ہمیشہ فراخدلی کا مظاہرہ کیا ۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ سیاسی تبدیلی چاہتے ہیں وہ انتخابات میں حصہ لیں، عوام کا اعتماد حاصل کریں اور اکثریت کے ذریعے قانون سازی کریں۔
مزید پڑھیں:گڈ گورننس کیلئے اقدامات ناگزیر، ڈی جی آئی ایس پی آر کا محسن نقوی کے بیان پر ردعمل
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی یہ مؤقف اختیار کرے کہ آئین اور قانون ایک طرف ہیں اور طاقت کے زور پر فیصلے کیے جائیں گے تو یہ قابل قبول نہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ طاقت کا استعمال اور تشدد کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض عناصر کا سوشل میڈیا نظام بھی اسی نوعیت کی کارروائیوں میں مصروف ہے، جس کا مقصد غلط تاثر پیدا کرنا اور عوام کو گمراہ کرنا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے زور دیا کہ مسائل کا حل آئینی، قانونی اور جمہوری طریقہ کار کے ذریعے ہی ممکن ہے۔













جمعہ 31 جولائی 2026 

