قابض اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے خلاف ملٹری آپریشن کے نام پر لبنان کے جنوبی علاقوں میں بنیادی انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے ظلم و بربریت کی انتہا کردی۔
لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے نیشنل نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر رات گئے وائٹ فاسفورس کے گولے داغے جس کے نتیجے میں زیتون کے باغ اور صنوبر کے جنگلات میں آگ لگ گئی۔
سرکاری نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب اسرائیلی فورسز نے جن علاقوں کو سفید فاسفورس کے گولوں سے نشانہ بنایا۔ اُن میں یارون، ہارون اور بنت جبیل شامل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسی رات ایک بجے کے فوراً بعد اسرائیلی جنگی طیاروں نے نبطیہ الفوقہ کے مضافاتی علاقے پر بھی فضائی حملہ کیا جبکہ ایک اسرائیلی ڈرون نے بیوت الصیاد کے مقام پر ایک صوتی بم بھی گرایا۔
لبنان کی سرکاری نیوز ایجنسی کے اس دعوے پر اسرائیل نے تاحال فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا تاہم صیہونی فوج غزہ کے بعد اب لبنان میں حزب اللہ کے خلاف سخت فوجی ایکشن میں مصروف ہے۔
علاوہ ازیں جب ان الزامات پر اسرائیلی فوج سے مؤقف لینے کی کوشش کی گئی تو اسرائیلی حکام کی جانب سے باضابطہ طور پر نہ تو تردید اور نہ ہی تصدیق کی گئی۔
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سفید فاسفورس ایک آتش گیر مادہ ہے جس کا استعمال بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت سخت شرائط کے ساتھ مشروط ہے کیونکہ اس سے شدید آگ، گہرے جلنے کے زخم اور عام شہریوں کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
اگرچہ بعض فوجی مقاصد کے لیے اس کا استعمال مکمل طور پر ممنوع نہیں تاہم اسے کسی بھی شہری آبادی، رہائشی علاقے یا شہری تنصیبات پر یا ان کے قریب استعمال کرنا بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی تصور کیا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:آئیسکو، 7073بچلی چوروں و نادہندگان کیخلاف کریک ڈائون، 7 ارب سے زائد کی وصولیاں
واضح رہے کہ جنوبی لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر حالیہ مہینوں کے دوران کشیدگی مسلسل برقرار ہے جہاں وقفے وقفے سے فضائی حملوں، ڈرون کارروائیوں اور سرحد پار گولہ باری کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔













پیر 3 اگست 2026 

