بھارتی پنجاب(Indian Punjab) کے شہر پھگواڑا میں لولی پروفیشنل یونیورسٹی کے طلبہ نے گرلز ہاسٹل میں ایک طالبہ کے ساتھ مبینہ زیادتی کی اطلاعات پر شدید احتجاج کیا، جو بعد ازاں پرتشدد صورت اختیار کر گیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے یونیورسٹی کی املاک کو نقصان پہنچایا، کھڑکیوں کے شیشے اور گملے توڑ دیے جبکہ بعض اشیا اور گاڑیوں کو آگ بھی لگا دی۔ احتجاج کے باعث جالندھر-پھگواڑا نیشنل ہائی وے کئی گھنٹوں تک ٹریفک کے لیے بند رہا، تاہم پولیس نے بعد میں این ایچ 44 کھول دیا۔
احتجاج کا آغاز ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب گرلز ہاسٹل کے قریب ہوا۔ طلبہ کا دعویٰ تھا کہ تقریباً تین روز قبل ایک طالبہ کو ہاسٹل میں ایک شخص نے مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، جس کے بعد اسے گھر بھیج دیا گیا۔ ایک احتجاجی طالب علم نے الزام عائد کیا کہ مبینہ واقعے میں کیمپس میں کام کرنے والا ایک تعمیراتی مزدور ملوث تھا، جبکہ طالبہ کی روم میٹ نے بعد میں دیگر طلبہ کو بتایا کہ اس نے خودکشی کرلی ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔
Student protests at Lovely Professional University in northern India have turned violent from social media claims that a female student was raped at a girls’ hostel by a worker.
The university has denied the allegations as rumours, while police have launched an investigation. pic.twitter.com/YjGfni7U0Q
— Al Jazeera English (@AJEnglish) September 27, 2026
جالندھر رینج کے ڈی آئی جی نوین سنگلا کے مطابق پولیس نے طالبہ کے بیان کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جو سی سی ٹی وی فوٹیج، فرانزک شواہد اور دیگر تکنیکی معلومات کا جائزہ لے گی۔
مزیدپڑھیں:امیر مقام کا وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے خلاف وائٹ پیپر لانے کا اعلان
کپور تھلہ کے ایس ایس پی گورو تورا نے کہا کہ پولیس کو ایسے کسی واقعے کی پہلے سے اطلاع نہیں تھی۔ ان کے مطابق، ہمیں گزشتہ رات معلوم ہوا کہ طلبہ نے جالندھر ہائی وے بند کردی ہے۔ ہم وہاں گئے اور صورتِ حال پر قابو پایا۔ اس وقت ہمیں معلوم ہوا کہ طلبہ نے ایل پی یو انتظامیہ سے متعلق کچھ مسائل اٹھائے ہیں اور ایک کیس کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ ایسے کسی جرم کی اطلاع ہمیں نہیں دی گئی تھی۔
Lovely Professional University students pelted stones at the police and set cars on fire; photos from the scene. pic.twitter.com/g7NwTBCyJ2
— Parmeet Bidowali (@ParmeetBidowali) September 27, 2026
گورو تورا نے بتایا کہ بعد میں ایک طالبہ کے بیان کی بنیاد پر ستنام پورہ پولیس اسٹیشن میں نامعلوم شخص کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 64 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے یونیورسٹی کی طلبہ تنظیموں سے بھی بات کی ہے۔
ایس ایس پی کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ یونیورسٹی اور طلبہ کے درمیان کوئی غلط فہمی ہے۔ ہم دونوں کے درمیان ملاقات کرانے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کی املاک کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس کے بعد قانونی کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب جالندھر رورل کے ایس ایس پی ہرویندر سنگھ ورک نے بتایا کہ ہنگامہ آرائی کے دوران پولیس کی چار سے پانچ گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ بعض طلبہ نے دعویٰ کیا کہ توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کرنے والے افراد یونیورسٹی کے طالب علم نہیں تھے۔
لولی پروفیشنل یونیورسٹی انتظامیہ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات کو ’’غلط اور گمراہ کن‘‘ قرار دیتے ہوئے طلبہ سے ہنگامہ آرائی میں حصہ نہ لینے کی اپیل کی۔ یونیورسٹی نے کہا کہ شرپسند عناصر کی جانب سے افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں اور طلبہ کیمپس میں محفوظ ہیں۔
یونیورسٹی نے طلبہ کو ہدایت کی کہ وہ اپنے ہاسٹل، کمروں یا رہائش گاہوں میں محفوظ رہیں اور کسی بھی اشتعال انگیز یا خلل ڈالنے والی سرگرمی میں حصہ نہ لیں۔
صورتِ حال کے پیش نظر لولی پروفیشنل یونیورسٹی نے پیر سے 10 روز کے لیے کلاسز معطل کردی ہیں، جبکہ مڈٹرم امتحانات بھی آئندہ اعلان تک ملتوی کردیے گئے ہیں۔













پیر 28 ستمبر 2026 

