ورلڈکپ شیئرز کی تجویز، 3 بڑی فٹبال کنفیڈریشنز کا فیفا پر سخت اعتراض، آزاد تحقیقات کا مطالبہ

Calender Icon پیر 10 اگست 2026

اسلام آباد: فٹبال کی تین بڑی کنفیڈریشنز،اے ایف سی، یوئیفا اور کونکاکاف نے فیفا قیادت کے خلاف مشترکہ کھلا خط جاری کرتے ہوئے ورلڈکپ میں حصص فروخت کرنے کی کوشش پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

تینوں کنفیڈریشنز کے صدور اور جنرل سیکریٹریز کی جانب سے جاری خط میں کہا گیا ہے کہ معاملہ صرف مالیات کا نہیں بلکہ فٹبال کی سالمیت، شفافیت اور قیادت پر اعتماد کا ہے۔ انہوں نے ورلڈکپ کے حصص فروخت کرنے کی تجویز کو **سنگین فیصلہ سازی کی ناکامی اور اعتماد کی بنیادی خلاف ورزی** قرار دیا۔

خط پر اے ایف سی کے صدر سلمان بن ابراہیم الخلیفہ، یوئیفا کے صدر الیگزینڈر چےفرین اور کونکاکاف کے صدر وکٹر مونٹاگلیانی سمیت تینوں کنفیڈریشنز کے جنرل سیکریٹریز نے دستخط کیے ہیں۔

مشترکہ خط میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ متنازع تجویز محدود وقت میں مناسب مشاورت کے بغیر آگے بڑھائی گئی، جبکہ رکن ممالک کو اس کی شرائط کا جائزہ لینے کے لیے بھی مناسب وقت نہیں دیا گیا۔ تینوں اداروں کا کہنا ہے کہ فیفا نے معاملے کو محض رابطے کی ناکامی قرار دیا، حالانکہ ان کے نزدیک بنیادی مسئلہ **فیصلہ سازی کا طریقہ کار** تھا۔

اے ایف سی، یوئیفا اور کونکاکاف نے فیفا کی جانب سے داخلی جائزے کی تجویز پر بھی تحفظات ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ معاملے کی تحقیقات **مکمل طور پر آزاد تیسرے فریق** سے کرائی جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں فیفا انتظامیہ، عملے یا کسی متعلقہ اسٹیک ہولڈر کو کردار نہیں دیا جانا چاہیے اور تمام متعلقہ ریکارڈ محفوظ رکھا جائے۔

خط میں مراکش میں ہونے والے ایک اجلاس پر بھی سوالات اٹھائے گئے اور کہا گیا کہ اجلاس میں منتخب عہدیداروں اور فیفا کونسل کے ارکان کی محدود شرکت نے شفافیت سے متعلق خدشات کو مزید بڑھایا ہے۔

تینوں کنفیڈریشنز نے واضح کیا کہ ان کا اعتراض فٹبال کے سابقہ اجتماعی فیصلوں یا مالی وسائل پر نہیں بلکہ **اداروں کی سالمیت، جوابدہی اور قیادت کے طرزِ عمل** پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ فٹبال کی ترقی کسی ایک فرد کی کوشش نہیں بلکہ فیفا، کنفیڈریشنز، رکن ممالک اور کھیل سے وابستہ لاکھوں افراد کی مشترکہ کاوش ہے۔

مزید پرھیں: ورلڈکپ میں حصص فروخت کرنے کی کوشش پر شدید تحفظات کا اظہار کیا

مشترکہ خط کے اختتام پر تینوں اداروں نے فٹبال میں اتحاد اور شفاف قیادت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فٹبال کی قیادت کا مقصد کھیل کی خدمت ہونا چاہیے، اسے کسی فرد کے اختیار میں دینا نہیں۔