وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کی نئی تاریخ کا اعلان کر دیا

Calender Icon جمعہ 25 ستمبر 2026

سیاسی کمیٹی متفق ہے کہ مارچ 4 اکتوبر کو پشاور سے روانہ ہو گا، ہماری جدوجہد آئین کی بحالی کیلئے ہے: وزیراعلیٰ کے پی کے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ سیاسی کمیٹی نے اتفاق کیا ہے کہ لانگ مارچ 4 اکتوبر کو پشاور سے روانہ ہو گا، پانچ اکتوبر کو بانی کی سالگرہ ہے،اس دن یوم فتح منائیں گے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہناتھا کہ پولیٹکل کمیٹی میں تمام معاملات کی مشاورت کی گئی، کمیٹی متفق ہوئی ہے کہ مارچ 4 اکتوبر کو پشاور سے روانہ ہو گا، ہماری جدوجہد آئین کی بحالی کےلئے ہیں، یہ چاہتے ہیں پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ لڑتی رہے اور یہ جہاز خریدتے رہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب آپ کی سنوائی نہ ہو پرامن احتجاج کر سکتے ہیں، انہوں نے ڈان لیکس کروائے،عدلیہ پر حملے کروائے، مریم نواز نے کہا مجھے بھارت سے خطرہ نہیں باقی 3صوبوں سے خطرہ ہے، ان کا مقصد پاکستان کو تقسیم کرنا ہے، ان کا ایک وفاقی وزیر ہے جو منتخب بھی نہیں ، انہوں نے نازیبا زبان استعمال کی ،کیا یہ زیب دیتاہے۔

سہیل آفریدی کا کہناتھا کہ ہمارے ارکان اور کارکنان کو گرفتار کیا جا رہا ہے، ہمارا سیاسی مقابلہ ہے،ہم سیاسی لوگ ہیں، ہم نے پرامن جدوجہد پہلے بھی کی تھی اب بھی کریں گے، 4اکتوبر کا لانگ مارچ پرامن ہو گا، یہ لوگ کے پی کو پاکستان سے الگ کرنےکی سازش کر رہے ہیں، یہ عوامی مینڈیٹ سے نہیں آئے،مسلط کئے گئے ہیں۔

یہ جو ہم سے کروانا چاہتے ہیں اس میں ان کا فائدہ ہے، یہ چاہتے ہیں پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ لڑتی رہے اور یہ جہاز خریدتے رہیں، یہ ملک کا قرض بلندترین سطح پر لے گئے، انہوں نے نہ پاکستان کا سوچنا ہے نہ عوام کا سوچنا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ بدزبانی اور انتشار کی کوشش کریں گے، چیف جسٹس سے کہتا ہوں کے پی کو ہرطرف سے بند کیا ہوا ہے، چیف جسٹس بھی اس پر ایکشن لیں ، جب سے رجیم چینج آپریشن ہوا تب سے تھریٹس ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کارکنان راضی ہیں،یہ ٹیسٹ میچ ہے،ٹاس جیت لیا اب ہماری مرضی بیٹنگ کریں یا بولنگ، ہم لانگ مارچ مطالبات منوانے کے لیے کر رہے ہیں ، ہم چاہتے ہیں مسائل بات چیت سے حل ہوں ، لوگوں کی نفرت اس بار بہت زیادہ ہے،یہ سب کو پتاہے۔

مزید پڑھیں:سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں مختلف کارروائیاں، 33 دہشتگرد ہلاک

جو لوگ 4اکتوبر کو نکلیں گے کسی کے کنٹرول میں نہیں ہوں گے، وہ پھر اپنے مطالبات منوائے بغیر واپسی نہیں کریں گے، 4اکتوبرکو سب ایک ہی کنٹنیر پر ہوں گے، یہ ہماری سیاسی حکمت عملی ہے، 5اکتوبر کو بانی کی سالگرہ ہے،اس دن یوم فتح منائیں گے۔