قیامِ پاکستان کے فوری بعد درج ہونے والی ایک مبینہ تاریخی ایف آئی آر(FIR) کے مدعی آج بھی انصاف کی منتظر ہیں۔
وطن عزیز میں شہریوں کو انصاف کی فوری فراہمی ایک بڑا چیلنج ہے، اس کو ںظام کی کمزوری کہا جائے یا قانونی داؤ پیچ کہ آئین میں درج تمام تر قوانین کے باوجود فریادی کو کئی برسوں تک انصاف ملنا مشکل ترین ہوجاتا ہے۔
ایک ایسی ہی چوری کی واردات کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) تقریباً 80 سال قبل پاکستان بننے کے شاید فوری بعد کاٹی گئی تھی جس کے مجرمان کا آج تک پتہ ہی نہ چل سکا۔
اس واردات کو 8 دہائیاں بیت گئی اور تیسری نسل ختم ہونے والی ہیں لیکن اس ایف آر کے مدعیان آج بھی کروڑوں روپے مالیت چوری کے سامان کی واپسی کے منتظر ہیں۔
نجی ٹی وی کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق 14اور 15 اگست 1947 کی درمیانی شب ایک گھر سے بڑی مقدار میں زیورات، قیمتی ملبوسات اور دیگر سامان چوری ہوا، جس کی مالیت موجودہ دور کے حساب سے کروڑوں روپے بتائی جاتی ہے۔
متاثرہ خاندان کے مطابق یہ مقدمہ چنیوٹ میں قیامِ پاکستان کے بعد درج ہونے والے ابتدائی مقدمات میں شامل تھا اور اسے مقدمہ نمبر 8 کے طور پر درج کیا گیا۔
خاندان کا دعویٰ ہے کہ چوری ہونے والے سامان میں تقریباً 112 سے 120 تولے سونا، چاندی، بوسکی اور دیگر قیمتی ملبوسات شامل تھے۔
مزیدپڑھیں:پازیب کی جھنکار اور ہنسی کی آوازیں، سیکڑوں خوفزدہ طلبا ہاسٹل سے فرار
دلچسپ امر یہ ہے کہ واقعے کو 80 برس مکمل ہونے پر متاثرہ خاندان نے روایتی انداز کے بجائے ایک انوکھا احتجاج کیا۔ خاندان کے افراد نے ایف آئی آر کے متن کا کیک تیار کروایا اور اسے کاٹ کر حکام کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی۔
متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ ان کے بزرگ اس مقدمے کے بعد انصاف کے لیے تھانے اور عدالتوں کے چکر لگاتے رہے، مگر تین سے چار نسلیں گزرنے کے باوجود نہ چوری شدہ سامان برآمد ہوا اور نہ ہی مقدمے کے انجام سے متعلق کوئی واضح ریکارڈ سامنے آیا۔
خاندان کے ایک فرد ساجد اسماعیل ڈار کے مطابق ماضی میں پنجاب پولیس کے اعلیٰ حکام کو بھی درخواستیں دی گئیں، جن پر کارروائی اور نوٹس بھی لیا گیا، تاہم بعد ازاں معاملہ دوبارہ خاموشی کی نذر ہوگیا۔
متاثرہ خاندان نے آئی جی پنجاب اور وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ 80 سال پرانے اس مقدمے کو دوبارہ دیکھا جائے، چوری شدہ سامان کی ممکنہ برآمدگی کے لیے تحقیقات کی جائیں اور خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔













اتوار 16 اگست 2026 

