آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات کے 3 مراحل مکمل ہونے کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 24 نشستوں کے ساتھ برتری حاصل کرلی ہے، جس کے بعد آزاد کشمیر میں حکومت سازی اور نئے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے مشاورت تیز ہوگئی ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت آزاد کشمیر کی پارٹی کا اہم اجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، حمزہ شہباز، وفاقی وزرا، شاہ غلام قادر، چوہدری طارق فاروق، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدر، نومنتخب ارکان آزاد کشمیر اسمبلی اور مسلم لیگ (ن) پاکستان و آزاد کشمیر کے سینئر رہنماؤں نے شرکت کی۔
اجلاس میں آزاد کشمیر میں حکومت سازی، قائد ایوان کے انتخاب اور دیگر اہم پارلیمانی عہدوں پر امیدواروں کے حوالے سے تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب سمیت حکومت سازی کے آئندہ لائحہ عمل پر بھی مشاورت کی گئی۔
ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر حکومت کے اہم آئینی و پارلیمانی عہدوں کے لیے مختلف ناموں پر غور کے بعد مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے حکومت سازی کے حوالے سے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرلیا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں پارٹی کے صدر **شاہ غلام قادر** اور سیکریٹری جنرل **چوہدری طارق فاروق** قائد ایوان کے لیے فیورٹ امیدواروں کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کی انتخابی کامیابی اور سیاسی تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے وزیراعظم کے نام پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم حتمی فیصلہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کریں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی نے قائد ایوان کے انتخاب کا حتمی اختیار نواز شریف کو سونپ دیا ہے اور وہ آئندہ چند روز میں آزاد کشمیر کے قائد ایوان کے نام کا اعلان کریں گے۔
اجلاس میں حکومت سازی کے لیے مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پوزیشن اور مطلوبہ سیاسی حمایت کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ آزاد ارکان اور دیگر سیاسی جماعتوں سے روابط کے حوالے سے بھی مشاورت کی گئی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں حالیہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی اور آزاد کشمیر کی موجودہ پارلیمانی صورتحال کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ حکومت سازی کے بعد گڈ گورننس، تعمیر و ترقی اور عوامی مسائل کے حل کو حکومتی ترجیحات میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
آزاد کشمیر میں روزگار کے مواقع، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوامی فلاح کے منصوبوں سے متعلق مجوزہ حکومتی ترجیحات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں آزاد کشمیر میں ایک مؤثر اور فعال حکومت کے قیام پر اتفاق کیا گیا۔
نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں مخصوص نشستوں کے امیدواروں کے ناموں پر بھی پارٹی قیادت کی سطح پر مشاورت ہوئی۔ خواتین، ٹیکنوکریٹ، اوورسیز اور علما کی مخصوص نشستوں کے لیے موصول ہونے والے نام بھی زیر غور آئے۔
اس سے قبل مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کی مخصوص نشستوں کے لیے امیدواروں کی فہرست نواز شریف کو ارسال کی گئی تھی۔ خواتین کی نشستوں کے لیے ماریہ اقبال ترانہ، ناصرہ خان، مریم کشمیری، نثارہ عباسی اور سحرش قمر کے نام فہرست میں شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں قائد ایوان، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کا عمل آئندہ ہفتے مکمل ہونے کا امکان ہے۔ نواز شریف کی منظوری کے بعد آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت سازی کا عمل آگے بڑھایا جائے گا۔
اجلاس میں نواز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف کو ہدایت کی کہ وہ اپنے فلیٹ میں سے وزیراعظم آزاد کشمیر کو ہیلی کاپٹر فراہم کریں تاکہ وہ آزاد کشمیر کے دور دراز علاقوں اور حلقوں کا آسانی سے دورہ کرکے عوام کے مسائل حل کرسکیں۔
مسلم لیگ (ن) کے قائد نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو بھی آزاد جموں و کشمیر کی حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کرنے کی ہدایت کی۔
یوں آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے مرحلے میں مسلم لیگ (ن) کے دو اہم رہنماؤں شاہ غلام قادر اور چوہدری طارق فاروق کے نام قائد ایوان کے لیے نمایاں طور پر سامنے آچکے ہیں، تاہم نئے وزیراعظم کے نام کا حتمی اعلان نواز شریف کی منظوری کے بعد ہی ہوگا۔













ہفتہ 15 اگست 2026 

