مشرق وسطیٰ میں ابراہم لنکن کا عملہ ذہنی صحت کے شدید بحران کا شکار، امریکی میڈیا

Calender Icon پیر 17 اگست 2026

مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر موجود عملہ ذہنی صحت سے متعلق مسائل کا شکار ہونے لگا۔

عرب اور امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق تقریباً نو ماہ کی طویل تعیناتی نے عملے میں ذہنی صحت کا اس قدر شدید بحران پیدا کر دیا ہے کہ کچھ اہلکاروں نے جہاز سے سمندر میں چھلانگ لگانے کی کوشش کی ہے۔

رپورٹس کے مطابق مشرق وسطیٰ میں موجود اس طیارہ بردار جہاز پر سوار تھکے ہارے فوجی عملے کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ جہاز پر خوراک کی شدید قلت ہے، جبکہ خراب ٹوائلٹس اور شاورز نے بھی عملے کی صحت کی خرابی میں مزید اضافہ کیا ہے۔

اس جہاز پر 5 ہزار سے زائد عملہ سوار ہے جو ایران کیخلاف حملوں اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے آپریشنز انجام دے رہا ہے۔ یہ جہاز 21 نومبر 2025 کو کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو کی بندرگاہ سے ایشیا پیسیفک اور مشرق وسطیٰ میں طویل تعیناتی کے لیے روانہ ہوا تھا۔

اس کے بعد سے جہاز نے 11 اور 12 دسمبر کو نیول بیس گوام (Guam) میں صرف ایک دن کا پڑاؤ ڈالا تھا۔ ماہرین کے مطابق یو ایس ایس ابراہم لنکن جیسے بڑے اور پیچیدہ جہاز کے لیے بندرگاہوں پر طویل عرصے تک نہ رکنا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا ہے کہ ذہنی صحت کے خدشات کو دور کرنا فوج کی اولین ترجیح ہے تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ سامنے آنے والے کچھ تحفظات محض پرانی خبریں ہیں۔

ایڈمرل بریڈ کوپر نے مشرق وسطیٰ کے دورے کے دوران ہفتے کے روز اس طیارہ بردار جہاز کا بھی دورہ کیا اور جہاز پر گزارے گئے وقت کو حیرت انگیز قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے وہاں بھائی چارے، ٹیم ورک کا مشاہدہ کیا۔

ایڈمرل کوپر نے اعتراف کیا کہ سمندر میں طویل وقت گزارنا ’غیر معمولی حد تک چیلنجنگ اور کٹھن‘ ہوتا ہے، انہوں نے مزید کہا ’اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سب کچھ بالکل ٹھیک ہے۔ ذہنی صحت انفرادی صحت کا ہی ایک پہلو ہے اور جسمانی و روحانی صحت کی طرح اس پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے‘۔

مزید پڑھیں:اینیمیٹڈ فلم ’اسپائیڈر مین: بیونڈ دی اسپائیڈر ورس‘ کا ٹریلرآن لائن لیک

خیال رہے کہ امریکی سینیٹ کے ڈیموکریٹس اراکین نے جہاز پر خوراک کی قلت، سیوریج کے مسائل اور گرتے ہوئے مورال اور خودکشی کی کوششوں کی رپورٹس پر فوجی حکام پر دباؤ ڈالا ہے اور ان سے جواب طلب کیا ہے۔