معدے کا کینسر سرطان کی 5 ویں سب سے عام قسم ہے جبکہ اموات کے لحاظ سے یہ تیسرے نمبر پر موجود ہے۔تمباکو نوشی، معدے کے ورم اور موٹاپے کو بھی اس کا خطرہ بڑھانے والے عناصر میں شامل کیا جاتا ہے۔
کینسر کی یہ قسم جوان افراد (50 سال سے کم عمر) میں تیزی سے پھیل رہی ہے حالانکہ اسے ماضی میں بوڑھے افراد کا مرض خیال کیا جاتا تھا۔اب اس کینسر کے پھیلاؤ کی ایک اہم وجہ کو دریافت کیا گیا ہے اور وہ ہے میٹھے مشروبات جیسے سافٹ ڈرنکس کا استعمال۔
یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ماس جنرل بریگھم کینسر انسٹیٹیوٹ کی اس تحقیق میں ایک لاکھ 12 ہزار سے زائد افراد کے طبی اور غذائی ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔
ان افراد کی غذاؤں اور مشروبات کے استعمال کی تفصیلات حاصل کی گئیں جبکہ جسمانی وزن، جسمانی سرگرمیوں، تمباکو نوشی، الکحل کے استعمال، ادویات اور دیگر طبی مسائل کے ڈیٹا کو بھی مدنظر رکھا گیا۔
ان افراد کی صحت کا جائزہ دہائیوں تک لیا گیا تھا جس سے محققین کو میٹھے مشروبات کے استعمال اور کینسر کی تشخیص کے درمیان تعلق کو جاننے میں مدد ملی۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ محض ایک میٹھے مشروب یا سافٹ ڈرنک کا استعمال معدے کے کینسر سے متاثر ہونے کا خطرہ دوگنا سے زائد بڑھا دیتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ یہ پہلی تحقیق ہے جس میں میٹھے مشروبات کے استعمال اور معدے کے کینسر کے درمیان تعلق کو ثابت کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معدے کے کینسر سے دنیا بھر میں بہت زیادہ اموات ہوتی ہیں مگر اس بارے میں بہت کم تفصیلات موجود ہیں کہ ہماری غذا اس حوالے سے کیا کردار ادا کرتی ہے۔
ماضی میں ہونے والے تحقیقی کام میں میٹھے مشروبات اور کینسر کی دیگر اقسام جیسے آنتوں، بریسٹ اور جگر کے درمیان تعلق دریافت ہوچکا ہے۔
معدے کا کینسر معدے کے کسی بھی حصے میں ہوسکتا ہے اور اگر اس کی شدت بڑھ جائے تو علاج سے نجات پانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
مزید پڑھیں:سری لنکا، ڈاکٹرز نے مریض کے مثانے سے 3.1 کلو گرام وزنی پتھری نکال لی
محققین نے تسلیم کیا کہ تحقیق کے نتائج کسی حد تک محدود ہیں تو اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔اس تحقیق کے نتائج Gastro Hep Advances journal میں شائع ہوئے۔













منگل 18 اگست 2026 

