پاکستان ٹیم سست اور ناقص فیلڈنگ کے باعث شدید تنقید کی زد میں آگئی

Calender Icon جمعہ 21 اگست 2026

انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی ناقص فیلڈنگ(Fielding) نے ٹیم کی کارکردگی پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ہیڈنگلے میں کھیلے جارہے پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران میدان میں کئی ایسے مواقع آئے جب معمولی کوشش سے رنز روکے جا سکتے تھے مگر پاکستانی فیلڈرز نے گیند روکنے کے لیے ڈائیو لگانے یا بھرپور کوشش کرنے سے گریز کیا۔


ایک موقع پر ڈین لارنس رن آؤٹ ہو سکتے تھے لیکن کپتان سلمان علی آغا نے بروقت گیند اسٹمپس پر مارنے کے بجائے پہلے امپائر کے فیصلے کا انتظار کیا۔

مزیدپڑھیں:مغربی الاسکا میں چارٹر طیارہ گر کر تباہ، 8 افراد ہلاک

بعد میں ان کی گھبراہٹ میں کی گئی تھرو محمد رضوان سے جا ٹکرائی جو اس وقت وکٹ کے سامنے کھڑے ہوکر امپائر سے اپیل کرنے میں مصروف تھے۔


اسی طرح محمد عباس نے جو روٹ کے شاٹ کو روکنے میں سستی دکھائی جبکہ دیگر فیلڈرز بھی آسان گیندوں پر غیر ضروری غلطیاں کرتے نظر آئے۔


پاکستانی کھلاڑی عثمان علی نے بھی اعتراف کیا کہ فیلڈنگ میں خامیاں موجود تھیں اور ٹیم کو زیادہ محنت کرنا ہوگی۔


ماہرین کے مطابق پاکستان کی فیلڈنگ کا معیار مسلسل گر رہا ہے جبکہ فیلڈنگ کوچ شین میک ڈرموٹ کی رخصتی کے بعد بھی اس شعبے میں بہتری کے لیے مؤثر اقدامات دکھائی نہیں دیتے۔