آزاد کشمیر کے 6 انتخابی حلقوں کے نتائج سپریم کورٹ میں چیلنج

Calender Icon ہفتہ 22 اگست 2026

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے 6 انتخابی حلقوں کے نتائج کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔ مدمقابل امیدواروں نے کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن کے اجرا کے خلاف آزاد جموں و کشمیر کی سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

درخواستوں میں مختلف حلقوں کے انتخابی نتائج اور مبینہ بے ضابطگیوں کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ سے نتائج کا جائزہ لینے کی استدعا کی گئی ہے۔

سپریم کورٹ نے دائر درخواستوں پر فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے ہیں، جبکہ عدالت نے کیسز کی سماعت کے لیے یکم اور 3 ستمبر 2026 کی تاریخیں مقرر کردی ہیں۔

عدالت میں دائر درخواستوں کے مطابق ایل اے 31 کھاوڑہ 5 سے چوہدری لطیف اکبر نے ثاقب مجید کی کامیابی کے خلاف انتخابی نتائج کو چیلنج کیا ہے۔

ایل اے 12 کوٹلی 5 سے چوہدری یاسین نے راجہ ریاست کی کامیابی کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا، جبکہ ایل اے 11 کوٹلی 4 سے راجہ آصف کی کامیابی کے خلاف مدمقابل امیدوار چوہدری اخلاق احمد نے درخواست دائر کی ہے۔

اسی طرح ایل اے 9 کوٹلی 3 سے سردار عمیر نعیم کی کامیابی کے خلاف جاوید اقبال بڈھانوی نے عدالت سے رجوع کیا۔ ایل اے 5 بھمبر 1 سے کرنل وقار نور کی کامیابی کو مدمقابل امیدوار چوہدری پرویز اشرف نے چیلنج کیا ہے۔

ایل اے 15 وسطی باغ سے سردار ضیاء القمر کی کامیابی کے خلاف بھی مدمقابل امیدوار مشتاق منہاس نے درخواست دائر کردی ہے۔

درخواست گزاروں نے عدالت عظمیٰ سے استدعا کی ہے کہ متعلقہ حلقوں کے انتخابی نتائج کا جائزہ لیا جائے اور مبینہ بے ضابطگیاں ثابت ہونے کی صورت میں کامیاب امیدواروں کی کامیابی کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

واضح رہے کہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے 2026 کے انتخابات کے اہم مراحل مکمل ہونے کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) 25 نشستیں حاصل کرکے سب سے بڑی پارلیمانی جماعت بن گئی ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی 12 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔