کبوتر کی رفتار سے پیغام رسانی، نئی میسجنگ ایپ نوجوانوں میں مقبول

Calender Icon اتوار 23 اگست 2026

تیز رفتار ڈیجیٹل دنیا میں جہاں پیغامات چند سیکنڈز میں ایک شخص سے دوسرے تک پہنچ جاتے ہیں، وہیں ایک نئی میسجنگ ایپ نے سست رفتار رابطے کا منفرد تصور متعارف کرا کے نوجوانوں کی توجہ حاصل کرلی۔
رُوسٹ(roost) نامی ایپ آئی او ایس اور اینڈرائیڈ دونوں صارفین کے لیے دستیاب ہے، جس کے ذریعے دوستوں اور عزیزوں کو پیغامات بھیجے جا سکتے ہیں، تاہم ان پیغامات کی ترسیل فوری نہیں ہوتی، صارف اپنی پسند کے پرندے یا جانور کا انتخاب کرتا ہے اور پیغام اسی کی رفتار کے مطابق منزل تک پہنچتا ہے۔

اپریل میں لانچ ہونے والی اس ایپ نے مختصر عرصے میں عالمی سطح پر خاصی مقبولیت حاصل کی، ایپ کے خالق لوگن مینڈلسون کے مطابق 18 اگست تک رُوسٹ کے صارفین کی تعداد 7 لاکھ سے تجاوز کرچکی تھی۔

ماہرین کے مطابق رُوسٹ کی مقبولیت کو نوجوانوں میں ٹیکنالوجی سے وقفہ لینے اور نسبتاً سست رفتار طرزِ زندگی اختیار کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان سے بھی جوڑا جا رہا ہے، مسلسل سکرولنگ اور ہر وقت آن لائن رہنے سے اکتائے بعض نوجوان سادہ موبائل فونز استعمال کرنے، فون سے پاک تقریبات میں شرکت کرنے اور سکرین سے دور سرگرمیوں کی جانب واپس جانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

مزیدپڑھیں:قانون کی حکمرانی نہیں ہوگی تو چاہے 1000 صوبے بنا لیں کچھ نہیں ہوگا: شاہد خاقان عباسی

رُوسٹ بھی اسی رجحان کو سامنے رکھتے ہوئے فوری رابطے کے بجائے انتظار، صبر اور منفرد ڈیجیٹل تجربے پر توجہ مرکوز کرتی ہے، اس میں پیغام بھیجنے کا عمل خود ایک تجربہ بن جاتا ہے، جہاں صارف کو جواب یا پیغام کی منزل تک پہنچنے کے لیے انتظار کرنا پڑتا ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ رُوسٹ اس نوعیت کی واحد ایپ نہیں، اپریل ہی میں سافٹ ویئر ڈویلپر نوح ایروبینو نے بھی کیریئر پِج نامی ایک ملتی جلتی ایپ متعارف کرائی، دونوں ایپس کے تخلیق کاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک دوسرے کے منصوبے سے لاعلم رہتے ہوئے اپنے آئیڈیاز پر کام کیا۔

یوں فوری پیغام رسانی کے دور میں کبوتر یا دیگر جانوروں کی رفتار سے پیغام پہنچانے کا تصور نوجوانوں کے لیے رابطے کا ایک نیا اور دلچسپ انداز بن کر سامنے آیا ہے، جو ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ سست رفتار اور نسبتاً پرسکون طرزِ زندگی کی بڑھتی ہوئی خواہش کی بھی عکاسی کرتا ہے۔