پمز سانحہ: مصطفیٰ کمال پر دباؤ بڑھ گیا، وائرل ویڈیوز نے نئی بحث چھیڑ دی

Calender Icon جمعہ 28 اگست 2026

اسلام آباد(حمزہ ارشاد)

پمز میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال پر سیاسی اور عوامی دباؤ بڑھ گیا ہے، جبکہ اسپتال کے باہر شہری سے تلخ کلامی اور صحافی سے مبینہ تکرار کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہیں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے مدر اینڈ چائلڈ اسپتال میں 26 اگست کو آتشزدگی کے المناک واقعے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے تھے، جس کے بعد اسپتال میں حفاظتی انتظامات، انتظامی نگرانی اور ذمہ داروں کے تعین سے متعلق سوالات اٹھ رہے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا، جبکہ وفاقی سیکریٹری صحت کو بھی معطل کردیا گیا۔ واقعے کے بعد سیاسی حلقوں کی جانب سے وفاقی وزارت صحت کی اعلیٰ سطحی ذمہ داریوں پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔

 پمز آتشزدگی میں کیا ہوا؟

26 اگست کی صبح پمز کے مدر اینڈ چائلڈ اسپتال کے متاثرہ یونٹ میں آگ لگی۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق یونٹ میں 15 نومولود بچے موجود تھے، جن میں سے 14 جاں بحق جبکہ ایک بچہ محفوظ رہا۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ابتدائی طور پر امکان ظاہر کیا تھا کہ آگ ایئر کنڈیشننگ یونٹ سے شروع ہوئی اور وارڈ میں موجود آکسیجن کے باعث آگ شدت اختیار کرگئی۔

تاہم واقعے کی حتمی تکنیکی وجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آسکے گی، اس لیے ابتدائی بیان کو حتمی نتیجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

 پمز کے باہر شہری سے تلخ کلامی

سانحے کے بعد پمز کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک بزرگ شہری نے مبینہ غفلت کے ذمہ داروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔

اس موقع پر مصطفیٰ کمال اور شہری کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ وفاقی وزیر نے شہری سے کہا کہ وہ آگے آکر ان سے براہِ راست بات کرے، جبکہ شہری نے جواب دیا کہ اسے ویڈیو بنوانے میں کوئی دلچسپی نہیں۔

واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی اور اس پر مختلف آرا سامنے آئیں۔

یہ معاملہ اس لیے بھی زیادہ حساس بن گیا کیونکہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب پمز میں نومولود بچوں کی ہلاکت پر متاثرہ خاندان شدید غم اور صدمے سے دوچار تھے۔

 صحافی سے تلخ کلامی کی ویڈیو بھی زیرِ بحث

مصطفیٰ کمال کی جانب سے صحافیوں سے گفتگو کے دوران ایک اور تلخ مکالمہ بھی رواں ماہ سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آیا۔

ویڈیو کے ساتھ جاری ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایک صحافی نے میڈیا کو مقررہ وقت پر بلانے کے باوجود شدید گرمی میں انتظار کروانے پر اعتراض کیا۔

اس موقع پر وفاقی وزیر اور صحافی کے درمیان بحث ہوئی، جس کے بعد ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

اس معاملے میں مکمل سرکاری ٹرانسکرپٹ دستیاب نہ ہونے کے باعث سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ہر جملے کو حتمی طور پر منسوب کرنا مناسب نہیں۔

 پرانی آئی سی یو ویڈیو دوبارہ وائرل

پمز سانحے کے بعد مصطفیٰ کمال کی سیاسی زندگی کے ایک پرانے واقعے کی ویڈیو بھی دوبارہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی۔

ویڈیو میں ایک شخص کو مبینہ طور پر اپنے عزیز کے آئی سی یو میں زیرِ علاج ہونے سے متعلق بات کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ مصطفیٰ کمال کے ساتھ اس کی تلخ گفتگو بھی نظر آتی ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ ویڈیو حالیہ واقعے کی نہیں بلکہ مصطفیٰ کمال کے کراچی کی سیاست میں سرگرم دور کی ہے۔

اس لیے اسے پمز میں 26 اگست کو پیش آنے والے سانحے سے براہِ راست جوڑنا درست نہیں ہوگا۔

تاہم موجودہ سیاسی صورتحال میں ویڈیو دوبارہ سامنے آنے کے بعد ناقدین نے اسے مصطفیٰ کمال کے عوام اور تنقیدی سوالات کا سامنا کرنے کے انداز سے جوڑنا شروع کردیا ہے۔

 مصطفیٰ کمال سے استعفے کا مطالبہ

پمز سانحے کے بعد مصطفیٰ کمال سے استعفے کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔

پیپلز پارٹی سے وابستہ شخصیات اور سندھ حکومت کے نمائندوں کی جانب سے وفاقی وزیر صحت کو مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا۔

ناقدین کا مؤقف ہے کہ چونکہ پمز وفاقی صحت کے انتظامی ڈھانچے کا حصہ ہے، اس لیے ذمہ داری کا تعین صرف اسپتال انتظامیہ یا افسران تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔

دوسری جانب بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ حتمی ذمہ داری کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے۔

 مصطفیٰ کمال کا مؤقف کیا ہے؟

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ذمہ داری سے بچنے کی تردید کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے خود کو احتساب کے لیے پیش کیا ہے اور غفلت کے ذمہ دار کسی شخص کو تحفظ نہیں دیا جائے گا۔

28 اگست کو سینیٹ اجلاس میں بھی مصطفیٰ کمال نے پمز سانحے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات میں جو بھی ذمہ دار قرار پایا، اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سانحے سے حاصل ہونے والے اسباق کی بنیاد پر ملک کے صحت کے نظام میں بہتری لائی جانی چاہیے۔

 کیا مصطفیٰ کمال نے استعفیٰ دے دیا؟

پمز سانحے کے بعد مصطفیٰ کمال کے استعفے سے متعلق بھی مختلف اطلاعات اور قیاس آرائیاں سامنے آئیں۔

تاہم 28 اگست 2026 تک ان کے استعفے کی منظوری کی کوئی مصدقہ اطلاع سامنے نہیں آئی اور وہ بدستور وفاقی وزیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کے منصب پر موجود ہیں۔

 مصطفیٰ کمال کون ہیں؟

سید مصطفیٰ کمال متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پاکستان) سے تعلق رکھنے والے سیاست دان اور رکن قومی اسمبلی ہیں۔

وہ مارچ 2025 میں وفاقی وزیر صحت کے منصب پر فائز ہوئے۔ اس سے قبل وہ کراچی کے میئر اور سندھ کے وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت مختلف اہم سیاسی و انتظامی عہدوں پر رہ چکے ہیں۔

وفاقی وزیر صحت کی حیثیت سے ان کی وزارت ملک کے اہم وفاقی صحت کے اداروں اور متعلقہ انتظامی و ریگولیٹری معاملات کی نگرانی کرتی ہے۔

 وائرل ویڈیوز اور پمز سانحہ، دونوں معاملات الگ ہیں

مصطفیٰ کمال سے متعلق موجودہ بحث میں دو مختلف پہلو سامنے آ رہے ہیں۔

پہلا معاملہ پمز میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت اور اس کی انتظامی ذمہ داری کا ہے۔

دوسرا معاملہ وفاقی وزیر کے شہریوں اور صحافیوں کے ساتھ مبینہ تلخ رویے اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز کا ہے۔

دونوں معاملات کو الگ رکھنا ضروری ہے۔ کسی شہری یا صحافی سے تلخ کلامی کی ویڈیو بذاتِ خود پمز آتشزدگی کی انتظامی یا قانونی ذمہ داری ثابت نہیں کرتی۔

پمز سانحے میں اصل ذمہ داری کا تعین تحقیقات کے نتیجے، فائر سیفٹی انتظامات، اسپتال کے انفرااسٹرکچر، عملے کی موجودگی، ہنگامی ردعمل اور انتظامی نگرانی کے شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔

 اب اصل امتحان مصطفیٰ کمال کا ہے

پمز سانحے کے بعد وفاقی وزارت صحت شدید عوامی اور سیاسی دباؤ میں ہے۔

وفاقی سیکریٹری صحت کی معطلی، تحقیقات کا آغاز، پارلیمانی سوالات اور مصطفیٰ کمال کے استعفے کے مطالبات نے معاملے کو مزید اہم بنا دیا ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر بدستور اپنے عہدے پر موجود ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی ہوگی۔

اب تحقیقات کا اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا سانحے کی ذمہ داری صرف اسپتال انتظامیہ تک محدود تھی یا وفاقی سطح پر بھی کسی انتظامی غفلت، حفاظتی خامی یا نگرانی کے فقدان کا تعین ہوتا ہے۔

مصطفیٰ کمال کے لیے موجودہ صورتحال محض ایک سیاسی تنازع نہیں بلکہ وفاقی صحت کے نظام، ادارہ جاتی جواب دہی اور قیادت کے حوالے سے ایک بڑا امتحان بن چکی ہے۔