سانحہ پمز، 10 افسر قصور وار قرار، عہدوں سے ہٹانے کی سفارش، وزیراعظم نے اہم اجلاس طلب کر لیا

Calender Icon ہفتہ 29 اگست 2026

وزیراعظم کی ہدایت پر قائم انکوائری کمیٹی نے سانحہ پمز پر 10 افسران کو قصور وار قرار دے کر انہیں عہدوں سے ہٹانے کی سفارش کر دی۔

ذرائع کے مطابق رپورٹ میں قصور وار قرار دیئے جانے والوں میں پمز کے پانچ اعلیٰ افسران بھی شامل ہیں، جنہیں غفلت اور لاپرواہی کا مرتکب قرار دیا گیا۔

کمیٹی نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز ڈاکٹر عمران سکندر سمیت دس افسران و متعلقہ عملے کو قصوروار قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر عہدوں سے ہٹا کر ان کی جگہ نئی پروفیشنل تعیناتیاں کرنے کی سفارش کی۔

ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سانحہ پمز سے متعلق اہم اجلاس آج شام کو طلب کر لیا، تمام متعلقہ افسران کو ویڈیو لنک سے شرکت کی ہدایت کی گئی ہے، اجلاس میں اہم فیصلے کئے جائیں گے۔

ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم کو رپورٹ کے مندرجات اور سفارشات سے بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ انکوائری کمیٹی کے ذرائع نے رپورٹ وزیراعظم آفس بھجوانے کی تصدیق کر دی ہے، اور رپورٹ پبلک کرنے کا اختیار وزیراعظم کو دے دیا گیا ہے۔

تین دن قبل 26 اگست کو پمز کے نیونیٹل وارڈ میں آتشزدگی کے نتیجے میں نرسری میں موجود 14 نومولود بچے جاں بحق ہو گئے تھے جس کی تحقیقات کیلئے وزیراعظم شہباز شریف نے اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کر دی تھی۔

ذرائع کے مطابق رپورٹ میں موجودہ قائم مقام سیکرٹری کیپٹن (ر) محمود کی سفارشات بھی شامل کی گئی ہیں، رپورٹ کے مطابق پمز کو انتہائی غیر پیشہ وارانہ اور انتظامی ڈھانچے کے بغیر چلایا جا رہا تھا۔

کمیٹی نے تجویز دی کہ پمز کا باقاعدہ گورننگ بورڈ بنایا جائے، پمز اسپتال کی باقاعدہ مانیٹرنگ ہونی چاہیے ، اسپتال کو چلانے کیلئے ایک ڈھانچہ موجود ہونا چاہیے۔

ذرائع کے مطابق رپورٹ میں پمز اسپتال میں علاج اور ناکافی سہولیات کا بھی ذکر ہے، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسپتال میں کوئی بھی چیز عالمی معیار کے مطابق نہیں، رپورٹ میں ذمہ داروں کے خلاف وزیراعظم کو کارروائی کرنے کی فوری سفارش کی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ پر انکوائری کمیٹی کے تمام اراکین کے دستخط ہیں، کمیٹی نے سانحہ پمز کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین بھی کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں:مہنگائی کا طوفان! گھی، آئل اور چاول عوام کی پہنچ سے دور

رپورٹ میں ریسکیو ٹیموں کو امدادی کارروائیوں میں درپیش مسائل کا بھی ذکر موجود ہے، پمز کے متعلقہ غیر حاضر عملے کیخلاف کارروائی اور مستقبل میں ایسے حادثات سے بچنے کے لیے سفارشات بھی دی گئی ہیں، پمز کی انتظامیہ اور ڈاکٹروں کے انٹرویوز کو بھی رپورٹ کا حصہ بنایا گیا ہے، فائر بریگیڈ ریسکیو ٹیموں کے بیانات بھی رپورٹ میں شامل ہیں۔