یونان ، اسرائیل کے درمیاں 3.5 ارب ڈالر مالیتی دفاعی معاہدے پر دستخط

Calender Icon پیر 31 اگست 2026

یونان اور اسرائیل کے درمیان3.5 ارب ڈالر مالیت کا دفاعی معاہدہ طے پاگیا۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق معاہدےکے تحت اسرائیل، یونان کے لیے ملٹی لیئرڈ فضائی دفاعی نظام تیار کرے گا۔

اسرائیلی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ یہ یونان کے ساتھ اسرائیل کا اب تک کا سب سے بڑا دفاعی برآمدی معاہدہ اور ملکی تاریخ کے سب سے بڑے معاہدوں میں سے ایک ہے۔

اس معاہدے کے تحت اسرائیل، یونان کو رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز کے تیار کردہ ڈیوڈز سلنگ او راسپائیڈر سسٹمز کے ساتھ ساتھ اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز (آئی اے آئی) کا بنایا ہوا ‘بارک ایم ایکس ائیر ڈیفنس سسٹم فراہم کرے گا۔

اس کے علاوہ فضائی نگرانی کے لیے آئی اے آئی کے ذیلی یونٹ ایلٹا سسٹمزکے تیار کردہ ایم ایم آر ملٹی مشن ریڈارز بھی فراہم کیے جائیں گے۔

خیال رہے ڈیوڈز سلنگ کو اسرائیل نے رواں سال ایران کے ساتھ جنگ کے دوران ایرانی میزائلوں کو روکنے کے لیے استعمال کیا تھا، فن لینڈ کے بعد یونان اس سسٹم کا دوسرا خریدار بن گیا ہے۔

خبررساں ایجنسی کے مطابق یونان اپنے مجموعی جی ڈی پی کا تقریباً 3.5 فیصد دفاع پر خرچ کرتا ہے جو کہ پڑوسی ملک ترکیے کے ساتھ تنازع کے باعث نیٹو کے کئی دیگر اتحادیوں کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔

یونان 2036 تک ‘اکیلیز شیلڈ نامی ملٹی لیئر اینٹی بیلسٹک، اینٹی ائیر کرافٹ اور اینٹی ڈرون سسٹم بنانے، اور امریکا سے چالیس تک F-35 لڑاکا طیارے جبکہ فرانس اور اٹلی سے جنگی بحری جہاز خریدنے پر تقریباً 28 ارب یورو خرچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اسرائیل کے ساتھ ہونے والے اس معاہدے کے تحت یونان کو ملکی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو مربوط کرنے کے لیے رافیل کا تیار کردہ ایک نیا نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بھی فراہم کیا جائے گا۔

ایک اضافی 26 ملین یورو کے معاہدے کے تحت اسرائیل اسٹریٹجک مقامات کو ڈرونز سے بچانے اور موجودہ دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے یونان کو رافیل کے ‘ڈرون ڈوم’ (Drone Dome) سسٹمز بھی فراہم کرے گا۔

مزید پڑھیں:بدوں ماحول و تیاری صوبوں کی تقسیم تباہی کا باعث ہوگی، فضل الرحمن

اس کے علاوہ اسرائیل یونان کے ساتھ دفاعی اور صنعتی تعاون کو بھی وسعت دے گا جس میں مقامی صنعت کو ٹیکنالوجی اور مہارت کی منتقلی شامل ہے۔