امام الحق کی انگلینڈ میں نئی انجری تنازع کا شکار، 2025 کی سنسنی خیز انکوائری رپورٹ سامنے آگئی

Calender Icon منگل 1 ستمبر 2026

پاکستان کرکٹ ٹیم کے اوپننگ بیٹر امام الحق کی انگلینڈ میں حالیہ انجری شدید خدشات اور سوالات کی زد میں آگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ماضی کے ایک متنازع واقعے کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے قومی بیٹر کی نئی انجری کی ازسرنو تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس تناظر میں مارچ 2025 کے دورہ نیوزی لینڈ کے دوران سامنے آنے والی ایک خفیہ انکوائری رپورٹ کی سنسنی خیز تفصیلات بھی منظرعام پر آگئی ہیں، جس میں پی سی بی کی تحقیقاتی کمیٹی نے امام الحق کو جان بوجھ کرجعلی انجری بنانے، علامات بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور میڈیکل اسٹاف کو دھوکا دینے کا ذمے دار قرار دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق 28 مارچ 2025 کو نیوزی لینڈ میں انڈور نیٹ سیشن کے دوران امام الحق کے دائیں پاؤں کے انگوٹھے پر بال لگی تھی۔ تاہم ایکسرے میں نہ تو کوئی فریکچر سامنے آیا اور نہ ہی ہڈی کے اپنی جگہ سے ہٹنے کا کوئی ثبوت ملا۔

حیران کن طور پر میڈیکل ٹیم کی واضح ہدایات کے باوجود امام الحق افطار کے لیے 500 میٹر پیدل چل کر گئے، اور بعد میں دعویٰ کیا کہ ان کا انگوٹھا شدید درد کے باعث سیاہ پڑ گیا ہے۔ جب ٹیم ڈاکٹر نے ایک مخصوص کیمیکل والے پیپر سے انگوٹھے کو صاف کیا تو وہ سیاہ نشان منٹوں میں دھل گیا۔ انکوائری کمیٹی کے مطابق وہ نشان قدرتی خون کا نہیں بلکہ مارکر یا سیاہی کا تھا۔

تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ امام الحق ٹیم آفیشلز کی موجودگی میں لنگڑا کر چلتے تھے، جبکہ نظروں سے اوجھل ہوتے ہی بالکل معمول کے مطابق چلنے لگتے تھے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ دیا تھا کہ امام الحق کو نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ون ڈے سے باہر بیٹھنے کی کوئی طبی وجہ موجود نہیں تھی اور انہوں نے مشکل و تیز پچز پر اوپننگ سے بچنے کے لیے دانستہ یہ ڈرامہ رچایا۔

اگرچہ اس وقت امام الحق نے اپنے دفاع میں مصنوعی مادے یا سیاہی کے استعمال سے مکمل انکار کیا تھا، لیکن کمیٹی نے ان کے مؤقف کو طبی شواہد اور ایکسرے رپورٹ کے منافی قرار دیتے ہوئے ان پر تمام فارمیٹس اور ہر سطح کی کرکٹ سے پابندی عائد کرنے کی سفارش کی تھی اور اس اقدام کو پہلے سے طے شدہ دھوکا دہی قرار دیا تھا۔

اب انگلینڈ کے خلاف نئی انجری کے دعوے کے بعد پی سی بی کا میڈیکل پینل متحرک ہو گیا ہے اور حالیہ انجری کی حقیقت جاننے کے لیے 2025 کے واقعات کی روشنی میں جامع جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔