مظفر آباد/اسلام آباد: آزاد جموں و کشمیر کے نئے وزیراعظم کے انتخاب کے ساتھ ہی خطے کی سیاست میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے۔ بیرسٹر افتخار گیلانی کو مسندِ اقتدار پر فائز کرنے پر جہاں مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت اسے ترقی اور نوجوان قیادت کا آغاز قرار دے رہی ہے، وہیں سیاسی و صحافتی حلقوں میں اس فیصلے کی قانونی و عوامی حیثیت پر بحث چھڑ گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سیاسی تجزیہ کاروں (بشمول نجم سیٹھی) اور مبصرین کا ماننا ہے کہ اس انتخاب میں عوامی خواہشات سے زیادہ ‘طاقتور حلقوں اور نواز شریف کی پسند’ کو ترجیح دی گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکمرانوں کے انتخاب کا معیار محض اسٹیبلشمنٹ اور نواز شریف کا اعتماد حاصل کرنا بن چکا ہے، جس سے ‘عوام کی پسند اور ووٹ کی اہمیت’ ثانوی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔
دوسری جانب پارٹی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ مریم نواز کی اس حکمت عملی کا نتیجہ ہے جس میں انہوں نے آزاد کشمیر کی سیاست سے پرانے چہروں اور ‘انکلز’ کی چھٹی کرا کے ‘ینگ بلڈ’ (نوجوان قیادت) کو آگے لانے پر زور دیا تھا۔ بیرسٹر افتخار گیلانی کا لندن میں قیام کے دوران میاں نواز شریف سے مسلسل رابطہ اور مریم نواز کے یوتھ پروگرامز میں بہترین کارکردگی کا ریکارڈ ان کے انتخاب کی بنیادی وجہ بنا۔ سیاسی ماہرین کے مطابق نوجوان قیادت کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ پارٹی و مرکزی پالیسیوں پر سنجیدگی سے عملدرآمد کرتی ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کا مرکزی وژن آزاد کشمیر میں تیز رفتار بنیادی ڈھانچے (ڈویلپمنٹ) کی تعمیر اور شفافیت لانا ہے۔ اس مقصد کے لیے بیرسٹر افتخار گیلانی کے کرپشن سے پاک امیج اور نوجوان صلاحیتوں کو سب سے زیادہ موزوں پایا گیا ہے تاکہ پنجاب ماڈل کی طرز پر آزاد کشمیر میں بھی ترقیاتی سفر کو تیزی سے آگے بڑھایا جا سکے۔













منگل 1 ستمبر 2026 

