پاکستان نے 3 ارب ڈالر مالیت کے بین الاقوامی یورو بانڈز جاری کیے ہیں جو ملکی تاریخ کا ایک ہی وقت میں جاری کیا جانے والا سب سے بڑا سنگل انٹرنیشنل بانڈ ہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد پاکستان کی وسیع تر حکمت عملی کے تحت قرضوں کے مؤثر اور فعال انتظام کو یقینی بنانا ہے۔
لیکن ان کے مقاصد اور فوائد جاننے سے پہلے یہ جاننا ضرروی ہے کہ انٹرنیشل بانڈز آخر ہوتے کیا ہیں اور پاکستان ان کے اجرا میں دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟
انٹرنیشنل بانڈز سے کیا مراد ہے؟
سادہ الفاظ میں فارن یا انٹرنیشنل بانڈ ایسا قرض ہوتا ہے جو کوئی حکومت یا کمپنی اپنے ملک سے باہر کے سرمایہ کاروں سے حاصل کرتی ہے۔
قرض لینے والا بانڈ جاری کرکے وعدہ کرتا ہے کہ مقررہ مدت کے بعد اصل رقم واپس کرے گا اور اس دوران سرمایہ کاروں کو طے شدہ منافع یا سود ادا کیا جائے گا۔
پاکستان کے لیے بین الاقوامی بانڈ مارکیٹ دنیا بھر کے بڑے سرمایہ کاروں تک رسائی کا ذریعہ ہے۔ حکومت مختلف مارکیٹوں اور کرنسیوں میں بانڈ جاری کرکے بیرونی فنانسنگ حاصل کرسکتی ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق پاکستان مزید یورو بانڈز، امریکی ڈالر میں بانڈز، پانڈا بانڈز اور روپے سے منسلک مگر ڈالر میں ادائیگی والے بانڈز جاری کرنے کے امکانات پر غور کررہا ہے۔
یہ تمام بانڈز قرض کی شکل ہیں اور گرانٹس کے برعکس انہیں واپس کرنا ہوتا ہے۔
یورو بانڈ کیا ہے؟
یورو بانڈ ایسا بین الاقوامی بانڈ ہے جو قرض لینے والے ملک کی مقامی مارکیٹ کے بجائے بیرون ملک جاری کیا جاتا ہے۔ نام میں ’یورو‘ ہونے کے باوجود اس کی لازمی شرط یہ نہیں کہ بانڈ یورو میں ہی جاری ہو۔
پاکستان عام طور پر یورو بانڈ مارکیٹ سے امریکی ڈالر میں قرض حاصل کرتا ہے۔ حالیہ 3 ارب ڈالر کا بانڈ بھی ڈالر میں جاری کیا گیا ہے۔
ایسے قرض کی لاگت کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہوتا ہے کہ عالمی سرمایہ کار پاکستان کی معیشت اور قرض واپس کرنے کی صلاحیت کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ جتنا زیادہ خطرہ سمجھا جائے گا، سرمایہ کار اتنے ہی زیادہ منافع کا تقاضا کریں گے۔
کیا پاکستان مزید قرض لینا چاہتا ہے؟
پاکستان روایتی طور پر چین اور سعودی عرب جیسے دوطرفہ قرض دہندگان کے علاوہ عالمی مالیاتی فنڈ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک جیسے کثیرالجہتی اداروں پر انحصار کرتا رہا ہے۔
موجودہ حکومتی حکمت عملی کا مقصد قرض دہندگان کا دائرہ وسیع کرنا اور کمرشل بینکوں اور عالمی سرمایہ کاروں سے حاصل ہونے والی فنانسنگ کا حصہ بڑھانا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایک موقع پر واضح کیا تھا کہ حکومت کا مقصد مجموعی بیرونی قرض میں اضافہ کرنا نہیں بلکہ دوطرفہ قرضوں کے کچھ حصے کو کمرشل فنانسنگ سے تبدیل کرنا ہے۔
یعنی حکومت کے مطابق بنیادی مقصد زیادہ قرض لینا نہیں بلکہ بیرونی قرض لینے کا طریقہ اور قرض دہندگان میں تبدیلی اور تنوع لانا ہے۔
مزید کون سے بانڈز جاری ہونگے؟
حکومت مزید پانڈا بانڈز کے علاوہ یورو بانڈز، امریکی ڈالر میں بانڈز اور پہلی مرتبہ روپے سے منسلک مگر ڈالر میں ادائیگی والے بانڈ کے اجرا پر بھی غور کررہی ہے۔
تاہم ہر بانڈ کے حجم اور اجرا کے حتمی وقت کا فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔ مالی سال 2027 کے بجٹ میں کمرشل اور یورو بانڈ فنانسنگ کے لیے 2.82 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں مالی سال بیرونی فنانسنگ میں عالمی کیپیٹل مارکیٹ کا کردار اہم رہنے کا امکان ہے۔
حکومت کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟
حکومت کی بنیادی حکمت عملی بیرونی قرض کے ذرائع کو متنوع بنانا ہے۔ پاکستان دوطرفہ قرض دہندگان پر انحصار کم کرکے کمرشل بینکوں اور عالمی سرمایہ کاروں تک اپنی رسائی بڑھانا چاہتا ہے۔
پانڈا بانڈ کے ذریعے چین کی کیپیٹل مارکیٹ تک رسائی ملتی ہے، جبکہ یورو بانڈز اور ڈالر میں جاری کیے جانے والے بانڈز عالمی سرمایہ کاروں سے فنڈز حاصل کرنے کا راستہ فراہم کرتے ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے مجموعی بیرونی قرض میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ قرض کے ذرائع میں تبدیلی آنی چاہیے۔
مزید پڑھیں:پیٹرولیم لیوی کیخلاف ہڑتال، حکومت، حافظ نعیم ملاقات ناکام، دھرنے جاری رکھنے کا اعلان
یوں پاکستان کی 2026 کی بانڈ حکمت عملی کا بنیادی مقصد بظاہر زیادہ قرض لینا نہیں بلکہ یہ تبدیل کرنا ہے کہ بیرونی فنانسنگ کہاں سے حاصل کی جائے۔ تاہم اس کا انحصار عالمی مارکیٹ کی صورتحال، قرض کی لاگت اور حکومت کی جانب سے بانڈز کے حجم اور اجرا کے وقت کے فیصلے پر ہوگا۔













جمعرات 3 ستمبر 2026 

