اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی آئی ٹی میں تحریری رپورٹ پیش کر دی ہے جس میں کہا گیاہے کہ پاکستان ریلوے اپنے لائسنس کی بنیاد پر مسافروں کو عوامی تجارتی انٹرنیٹ سروس فراہم نہیں کر سکتا ، پاکستان ریلوے کو ادارہ جاتی استعمال کیلئے ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم چلانے کی اجازت حاصل ہے۔
تفصیلات کے مطابق پی ٹی اے نے پاکستان ریلوے کے ٹیلی کام لائسنس کی قانونی حیثیت اور کمرشل اختیار کی پوزیشن واضح کر دی ہے، رپورٹ میں کہا کہ پاکستان ریلوے کو خصوصی ٹیلی کام لائسنس جاری کیا گیا ہے۔
پاکستان ریلوے کا ٹیلی کام لائسنس صرف اپنے استعمال اور غیر تجارتی خدمات کے لیے ہے، پاکستان ریلوے کا لائسنس عوامی یا تجارتی ٹیلی کام سروسز کی اجازت نہیں دیتا۔
ٹیلی کام پالیسی کے تحت سرکاری اداروں کے مخصوص لائسنس انہیں کمرشل آپریٹر بننے کی اجازت نہیں دیتے، پاکستان ریلوے اس وقت صرف 3 سے 5 ٹرینوں میں سیلولر آپریٹرز کے ذریعے انٹرنیٹ فراہم کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں:سربراہ انڈونیشین بحریہ کا دورہ جی ایچ کیو، پاک فوج کی پیشہ وارانہ مہارت کو سراہا
رپورٹ میں پی ٹی اے کی جانب سے تجویز پیش کی گئی کہ پاکستان ریلوے سیلولر آپریٹرز کے ساتھ کمرشل معاہدے کر کے ٹرینوں میں انٹرنیٹ فراہم کر سکتا ہے،ٹرینوں کے وائی فائی نیٹ ورک کو سیلولر آپریٹرز کے بیک ہال سےمنسلک کیا جا سکتا ہے، پاکستان ریلوےکی ٹرینوں میں وائی فائی سروس توسیع کیلئے کمرشل آپریٹرز سے معاہدے کا راستہ کھلا ہے۔













پیر 14 ستمبر 2026 

