اسلام آباد ہائیکورٹ،محفوظ فیصلہ سنا دیا، پی ٹی آئی کو احتجاج سے روکنے کی استدعا مسترد

Calender Icon پیر 14 ستمبر 2026

اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بینچ نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے ممکنہ احتجاج کے خلاف سمات کے دوران کیس کامحفوظ کیا گیا فیصلہ سنادیا۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں لارجر بینچ نے سماعت کی۔

فیصلے کے مطابق کسی سیاسی جماعت کو عوامی شاہراہیں اور دیگر مقامات بند کرنے کا اختیار نہیں، صوبوں کے وزرائے اعلی یقینی بنائیں کہ احتجاج میں سرکاری مشینری استعمال نہ ہو، اسلام آباد انتظامیہ یقینی بنائے کہ کوئی بھی احتجاج شہریوں کے امور میں خلل نہ ڈالے۔

عدالت نے حکمنامے میں شہریوں کے حقوق سے متعلق واضح گائیڈ لائنز جاری کردیں تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو اختجاج سے روکنے کی استدعا مسترد کردی۔

قبل ازیں تمام صوبوں سمیت ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے دلائل مکمل ہوگئے تھے۔ سرکاری وسائل استعمال ہوں گے نہ سرکاری مشینری، خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری اور آئی جی نے عدالت میں اپنے بیانِ حلفی بھی جمع کرادیے۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نویدحیات ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس لانگ مارچ کے ابھی تک دو مقاصد ہی سامنے آتے ہیں ۔ ایک مقصد سزا یافتہ قیدی کی رہائی اور دوسرا حکومت گرانا اور یہ دونوں ہی غیرقانونی ہیں ۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کی درخواست پر کمرہ عدالت میں پی ٹی آئی کے دوہزار بیس اور دوہزار چوبیس میں ہونیوالے احتجاج کے دوران جلاؤ گھیراؤ کی فوٹیجز بھی چلائی گئئیں۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا یہ پورے وسائل کے ساتھ اسلام آباد آنا چاہتے ہیں اور ہم میں انھیں روکنے کی صلاحیت نہیں ۔ ہم تو صرف انتظامات ہی کرسکتے ہیں کہ دفعہ 144 لگادیں ۔

ہم اپنے شہریوں پر گولیاں نہیں چلاسکتے ۔ اُن کی جانیں نہیں لے سکتے ۔ کہا اس سے پہلے کہ پانی سر سے گزر جائے ۔ پیشگی اقدامات کرنا ہوں گے۔

مزید پرھیں:دماغی ٹیومر کی 120 سے زائد اقسام، کون سا ٹیومر زیادہ خطرناک؟

ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ اگر آپ وزیراعظم سے ناخوش ہیں تو جائیں پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کی تحریک لائیں، اگر چوک چوراہوں پر حکومت گرانا چاہتے ہیں تو پھر رول آف لاء کی بات نہ کریں، عدالتوں میں مقدمات پہلے سے زیادہ دائر ہورہے ہیں مطلب عوام کا اعتماد بڑھ رہا ہے۔