ٹی ایل پی کا وجود “ہمارا علاج کرنے کے لیے” بنایا گیا تھا، پابندی ٹھوس شواہد پر کی گئی، رانا ثنا اللہ

Calender Icon جمعرات 23 اکتوبر 2025

اسلام آباد: مشیر وزیراعظم سینیٹر رانا ثنا اللہ نے اعلان کیا ہے کہ وفاقی کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی کی منظوری دے دی ہے، اور اب صرف سرکاری نوٹیفکیشن کا مرحلہ باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ سیاسی نہیں بلکہ ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ ٹی ایل پی کے زیر انتظام مدارس اور مساجد کو بند نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ایل پی پر پابندی انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت تجویز کی گئی ہے، اور اس فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ تاہم سپریم کورٹ میں کوئی ڈیکلریشن دائر نہیں کی جائے گی۔

رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ پابندی کے بعد ٹی ایل پی کی نشستوں پر موجود امیدواروں کو ڈی نوٹیفائی کر دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئی جی پنجاب نے تصدیق کی ہے کہ ٹی ایل پی کے رہنما سعد رضوی اور انس رضوی کسی ادارے کی حراست میں نہیں ہیں۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ٹی ایل پی کا وجود “ہمارا علاج کرنے کے لیے” بنایا گیا تھا، لیکن اب اس پر پابندی ناگزیر ہو گئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ فیصلہ مکمل غور و خوض اور شواہد کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

رانا ثنا اللہ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو خبردار کیا کہ وہ کسی قسم کے احتجاج، مارچ یا جلوس سے گریز کرے، کیونکہ اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بنی گالہ یا زمان پارک منتقلی کی درخواست پر حکومت کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا، لیکن پی ٹی آئی کو قانون کی پاسداری کرنی چاہیے۔