حکومت(Government) اور اپوزیشن کے درمیان برف پگھلنے کی امید ہے ۔ فریقین آج دوپہر بارہ بجے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے جارہے ہیں۔ دونوں طرف سے 6،6 رکنی کمیٹی بنادی گئی ہے۔
صدر مملکت اور وزیراعظم نے گزشتہ روز ملاقات میں پی ٹی آئی سے بات چیت کا فیصلہ کیا تھا ۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کا مشترکہ وفد آج تحریک انصاف کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کرے گا۔
ایوان صدر میں ہونے والے اجلاس میں پی ٹی آئی سے مذاکرات کیلئے وفد کے نام بھی فائنل کیے گئے، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناءالّلہ، وفاقی وزیر امیر مقام شامل ہیں۔ پپپلز پارٹی رہنما شیری رحمان، سید نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی بھی مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔
صدر اور وزیراعظم کی ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، رانا ثناء اللہ اور اٹارنی جنرل نے شرکت کیں، پیپلزپارٹی کے سلیم مانڈوی والا، شیری رحمان، ناصر شاہ اور شرجیل میمن بھی موجود تھے۔
مشاورتی اجلاس میں خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا اور امن و استحکام کیلئے اداروں کے درمیان مؤثر تعاون کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
مزیدپڑھیں:شارجہ، خاتون نے تفریح کے لیے باہر نہ لے جانے والے شوہر سے طلاق مانگ لی
حکومت کے بعد اپوزیشن نے بھی 6 رکنی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دیدی۔اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹی میں اپوزیشن سیینیٹ لیڈر راجانا صرعباس سمیت 6 ارکان شامل ہیں۔ اپوزیشن نے حکومت سے مذاکرات کیلئے اپنے ایجنڈے کو بھی توسیع دیدی۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہرعلی خان، اسد قیصر، سلمان اکرم راجا اور چیف وہیپ عامرڈوگر اور حلیم عادل شیخ اپوزیشن کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔ حکومت اور اپوزیشن کےدرمیان مذاکرات آج دن 12 بجے اسپیکر آفس میں ہوں گے۔













جمعہ 2 اکتوبر 2026 

