سونے کی قیمتوں(Gold Rates) میں جمعہ کو کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ قیمتی دھات مسلسل دوسری ہفتہ وار کمی کی جانب گامزن ہے۔ امریکی ڈالر کی مضبوطی اور امریکی ٹریژری بانڈز کی بلند شرحِ منافع نے سونے کی قیمتوں پر دباؤ بڑھا دیا، جبکہ سرمایہ کار امریکی روزگار کے اہم اعدادوشمار کے منتظر ہیں تاکہ امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود کی پالیسی کے حوالے سے مزید واضح اندازہ لگایا جاسکے۔
روئٹرز کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.6 فیصد کمی کے بعد 4,154.78 ڈالر فی اونس ہوگئی، جبکہ رواں ہفتے اب تک سونے کی قیمت میں 3 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی جاچکی ہے۔ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 0.4 فیصد کمی کے بعد 4,184 ڈالر فی اونس پر آگئے۔
امریکی ڈالر رواں ہفتے اضافے کی جانب گامزن ہے، جس کے باعث دیگر کرنسیوں میں خریداری کرنے والے سرمایہ کاروں کے لیے ڈالر میں قیمت رکھنے والی دھاتیں مہنگی ہوگئی ہیں۔
دوسری جانب 10 اور 30 سالہ امریکی ٹریژری بانڈز کی شرحِ منافع جمعرات کو 2002 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جس سے سونے جیسی بغیر منافع والی سرمایہ کاری پر دباؤ مزید بڑھا۔
کے سی ایم ٹریڈ کے سینئر مالیاتی مارکیٹ تجزیہ کار کائل روڈا (Kyle Rodda) نے کہا کہ مارکیٹ کے شرکا امریکی شرح سود کی توقعات اور مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
مزیدپڑھیں:نامور اداکار جِم کیری نے 64 سال کی عمر میں تیسری بار شادی کر لی
ان کے مطابق امریکی نان فارم پے رولز کے اعدادوشمار شرح سود کی توقعات کے لیے اہم ہوں گے، کیونکہ مضبوط روزگار رپورٹ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات بڑھا سکتی ہے، جس سے سونے کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑنے کا امکان ہے۔
مارکیٹ میں رواں ماہ شرح سود میں اضافے کا امکان تقریباً 25 فیصد رہ گیا ہے، جو ہفتے کے آغاز میں 70 فیصد تھا، جبکہ دسمبر میں شرح سود بڑھنے کا امکان 79 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی کی قیمت 0.5 فیصد، پلاٹینم 0.4 فیصد کم ہوئی، جبکہ پیلیڈیم کی قیمت میں 0.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم چاندی، پلاٹینم اور پیلیڈیم بھی ہفتہ وار بنیاد پر کمی کی جانب گامزن ہیں۔













جمعہ 2 اکتوبر 2026 

