پی ٹی آئی کا لانگ مارچ شروع مرکزی و صوبائی قیادت غائب، کیا سہیل آفریدی کنٹینر پر تنہا رہ گئے؟

Calender Icon منگل 6 اکتوبر 2026

پاکستان تحریک انصاف(PTI) کا اسلام آباد لانگ مارچ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع لکی مروت سے شروع ہوگیا، تاہم پہلے ہی روز وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ساتھ مرکزی اور صوبائی قیادت کی عدم موجودگی نے مارچ کے حوالے سے عزم اور پارٹی کے اندرونی اختلافات پر نئے سوالات کھڑے کردیے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اتوار کی سہ پہر سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذریعے لکی مروت پہنچے جہاں انہوں نے گنڈی چوک سے اسلام آباد لانگ مارچ کا آغاز کیا تاہم ان کے ہمراہ پارٹی کی مرکزی قیادت کے اہم رہنما دکھائی نہیں دیے۔

سہیل آفریدی کے ساتھ ان کے قریبی نوجوان ساتھی شفقت ایاز، شاہد خٹک اور بعض دیگر مقامی رہنما موجود تھے تاہم پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کی قیادت کی بھی نمایاں موجودگی نظر نہیں آئی جبکہ مرکزی قیادت تقریباً مکمل طور پر مارچ سے دور رہی۔

سہیل آفریدی لکی مروت سے کرک اور پھر کوہاٹ تک مارچ کے قافلے کے ساتھ پہنچ گئے تاہم سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور ڈیرہ اسماعیل خان سے آگے نہ بڑھ سکے۔

کیا پارٹی قیادت مارچ کے خلاف ہے؟

پی ٹی آئی قیادت نے ابھی تک کھل کر سہیل آفریدی کی جانب سے شروع کیے گئے لانگ مارچ کی مخالفت نہیں کی تاہم مرکزی قیادت وفاق کے ساتھ مذاکرات کے حق میں ہے جبکہ سہیل آفریدی اور ان کے قریبی ساتھیوں کا مؤقف ہے کہ مذاکرات سے قبل عمران خان سے مشاورت ضروری ہے اور ان کی منظوری کے بعد ہی مذاکرات آگے بڑھ سکتے ہیں۔
ان کے مطابق مذاکرات کے نتائج اسی صورت میں قابل قبول ہوں گے جب عمران خان سے باقاعدہ منظوری لی جائے جبکہ مرکزی قیادت کا مؤقف ہے کہ حالات کے مطابق مذاکرات کے ذریعے راستہ نکالا جائے اور تصادم سے بچا جائے۔

اسی معاملے پر سہیل آفریدی اور مرکزی قیادت کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں تاہم مرکزی قیادت میڈیا بیانات کی حد تک سہیل آفریدی کی حمایت کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

پارٹی کے ایک صوبائی رہنما نے بتایا کہ مرکزی قیادت کی جانب سے مکمل تعاون حاصل نہیں ہے اور نہ ہی مرکزی قائدین نے فنڈنگ میں حصہ ڈالا۔ ان کے مطابق اس وقت سہیل آفریدی اور جنید اکبر ایک ساتھ ہیں جبکہ بیشتر قیادت ان کے مخالف ہے۔

صوبائی رہنما کا کہنا تھا کہ پارٹی میں بیشتر افراد کی رائے ہے کہ تصادم کی سیاست کے بجائے مذاکرات اور بات چیت کا راستہ اپنایا جانا چاہیے۔

علی امین گنڈاپور اور سہیل آفریدی میں دوریاں برقرار

سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور سہیل آفریدی کے درمیان دوریاں ختم نہ ہوسکیں۔ 4 اکتوبر کے مارچ کے لیے علی امین گنڈاپور بکروں کا صدقہ دے کر گھر سے تو نکلے تاہم لکی مروت پہنچنے کے بجائے واپس اپنے گھر چلے گئے اور اس تمام صورتحال کی ذمہ داری بھی سہیل آفریدی پر ڈال دی۔

علی امین گنڈاپور نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ان کی اپنی حکومت کی جانب سے دفعہ 144 کے نفاذ کے باعث مارچ میں شرکت کے لیے رکاوٹ پیدا ہوئی۔

پی ٹی آئی قیادت مارچ میں شرکت کیوں نہیں کر رہی؟

پی ٹی آئی کے بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ مارچ کی قیادت کرنے والے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو ایسے وقت میں پارٹی کی مرکزی اور صوبائی قیادت کی عملی حمایت حاصل نہیں ہورہی جب پارٹی نے اسلام آباد پہنچنے اور بڑے پیمانے پر کارکنوں کو متحرک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق ماضی میں مشکل سیاسی حالات کے دوران خیبر پختونخوا کو سیاسی سرگرمیوں اور قیادت کے لیے محفوظ جگہ کے طور پر استعمال کرنے والی مرکزی قیادت اب مارچ کے موقع پر عملی طور پر سہیل آفریدی کے ساتھ نظر نہیں آرہی، جس سے پارٹی کارکنوں اور رہنماؤں میں بھی سوالات جنم لے رہے ہیں۔

پارٹی ذرائع کے مطابق مرکزی قیادت کی جانب سے مارچ کے حق میں بیانات تو سامنے آرہے ہیں تاہم عملی طور پر مارچ میں شرکت اور وزیراعلیٰ کے ساتھ کھڑے ہونے والے نمایاں رہنماؤں کی تعداد کم دکھائی دے رہی ہے۔

رہنماؤں کے مطابق مرکزی قیادت اس وقت اسلام آباد میں موجود ہے اور وفاق کے ساتھ رابطوں میں مصروف ہے، جبکہ اہم منتخب اراکین مکمل طور پر خاموش ہیں۔ اسد قیصر سے لے کر عاطف خان، علی محمد خان، شہرام ترکئی اور دیگر اہم رہنما منظرعام سے غائب ہیں۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ زیادہ تر مرکزی رہنما صوابی کے بعد مارچ میں شامل ہونے کے خواہشمند ہیں اور اس سے قبل کارکنوں کو فعال کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کررہے۔

تاہم پی ٹی آئی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ مارچ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور آئندہ دنوں میں پارٹی کی مرکزی و صوبائی قیادت سمیت دیگر رہنما بھی قافلے میں شامل ہوسکتے ہیں۔

بانی کے بیانیے کے ساتھ نہیں چل سکتے تو ایک طرف ہوجائیں، جنید اکبر

تحریک انصاف کے صوبائی صدر جنید اکبر نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ 8 اکتوبر کو بڑا اجتماع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت کو بھی پیغام دیا ہے کہ جو قیادت بانی کے بیانیے کے ساتھ نہیں چل سکتی وہ ایک طرف ہوجائے اور دوسروں کو آگے بڑھنے کا موقع دے۔

انہوں نے کارکنان سے کہا کہ ان قیادت کے ارکان پر نظر رکھیں جو صرف خانہ پُری کررہے ہیں ان کی نشاندہی کریں اور آئندہ ٹکٹوں اور عہدوں پر ان کی مخالفت کریں۔

جنید اکبر کا کہنا تھا کہ پارٹی میں مزید یہ نہیں چل سکتا کہ کچھ لوگ جیلوں اور مقدمات کا سامنا کریں جبکہ کچھ کارکنان اور بانی کے نظریے کا بوجھ اٹھانے کو تیار نہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کی نااہلی کی واحد وجہ بانی سے وفاداری ہوگی اور اب بانی کے وفاداروں کے خلاف فیصلوں کے بعد سب کو اس نظام سے نکلنا ہوگا۔

کیا اختلافات کے باعث سہیل آفریدی تنہا رہ گئے؟

سہیل آفریدی کی قیادت میں لانگ مارچ کا قافلہ پیر کی شام کوہاٹ پہنچ گیا، جبکہ منگل کو پشاور میں داخل ہوگا۔

کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ 8 اکتوبر کو بڑا اجتماع ہوگا۔ سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ 8 اکتوبر کو ٹی 20 میچ ہوگا۔

سہیل آفریدی جب مارچ میں تیزی لانے کا اعلان کررہے تھے تو اس وقت ان کے ساتھ پارٹی کی نمایاں قیادت موجود نہیں تھی۔ وہ اپنے چند قریبی نوجوان ساتھیوں کے ہمراہ مارچ کی قیادت کررہے ہیں۔

پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق اب تک اہم قائدین غائب ہیں جبکہ ان کی جانب سے تعاون اور مالی سپورٹ بھی نہیں کی جارہی۔

ایک پارٹی سورس نے کہا کہ ’ابھی تک تو سہیل آفریدی تن تنہا مارچ کررہے ہیں لیکن پشاور میں داخلے کے بعد صورت حال واضح ہوگی۔‘

ذرائع نے بتایا کہ 8 اکتوبر کو صوابی یا اس کے آس پاس جلسے کا پلان ہے جس میں مرکزی اور صوبائی قیادت شرکت کرے گی اور یہ تاثر دیا جائے گا کہ قیادت سہیل آفریدی کے ساتھ ہے۔

ان کے مطابق مارچ جب مردان پہنچے گا تو وہاں کے قائدین بھی قافلے میں شامل ہوں گے جبکہ صوبائی صدر جنید اکبر مالاکنڈ سے مارچ کی قیادت کریں گے۔ دیگر قائدین کب اور کہاں سے شامل ہوں گے اس حوالے سے تاحال کوئی شیڈول نہیں دیا گیا۔

پی ٹی آئی کا لانگ مارچ، 5 اگست سے 4 اکتوبر تک کیا ہوتا رہا؟

5 اگست کو پشاور کے جلسے میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کی تاریخ دی اور اس کے لیے باقاعدہ اسٹریٹ مہم کا آغاز کیا۔

تاہم 27 ستمبر سے تقریباً 36 گھنٹے قبل سہیل آفریدی نے اپنے ہی اعلان پر یوٹرن لیتے ہوئے لانگ مارچ مؤخر کرنے کا اعلان کردیا۔

سہیل آفریدی نے بتایا تھا کہ پارٹی کی تجویز پر لانگ مارچ کو 4 اکتوبر تک مؤخر کیا گیا ہے اور 4 اکتوبر کو اسلام آباد مارچ کا دوبارہ آغاز ہوگا۔

پی ٹی آئی نے اسلام آباد مارچ ایسے وقت میں مؤخر کیا جب اسلام آباد میں سیکیورٹی کے انتظامات سخت کردیے گئے تھے۔ مارچ کو اسلام آباد میں داخلے سے روکنے کے لیے موٹروے اور کے ٹی روڈ کو بند کیا گیا جبکہ اسلام آباد کو سیل کردیا گیا تھا۔

حکومت کے ساتھ مذاکرات

وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کے اسلام آباد مارچ کو روکنے کے لیے پی ٹی آئی اور اس کی اتحادی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کیے جو 2 دن جاری رہے۔

مذاکراتی ٹیم میں شامل حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے تصدیق کی کہ مذاکرات کے آخری دور میں طویل نشست کے بعد اتفاقِ رائے ہوگیا تھا تاہم آخری لمحات میں مذاکرات ناکام ہوگئے۔

حکومتی ارکان کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم کو ہدایات دے رہے تھے جبکہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں عدم تعاون کے معاملے پر بھی مذاکرات ناکام ہوئے۔