مضبوط امریکی ڈالر اور امریکی ٹریژری بانڈز کی شرح منافع میں اضافے کے باعث منگل کو عالمی منڈی میں سونے کی قیمت(Gold Rates) میں کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم رواں ماہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہونے کے باعث قیمت میں کمی محدود رہی۔
اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.3 فیصد کم ہوکر 4,128.69 ڈالر فی اونس ہوگئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز کی قیمت معمولی تبدیلی کے ساتھ 4,156 ڈالر فی اونس پر رہی۔
امریکی ڈالر کی قدر مستحکم رہنے سے دیگر کرنسیوں میں خریداری کرنے والے سرمایہ کاروں کے لیے ڈالر میں قیمت رکھنے والی اشیا مہنگی ہوگئیں، جس سے سونے کی طلب پر دباؤ آیا۔
دوسری جانب پیر کو 10 سالہ اور 30 سالہ امریکی ٹریژری بانڈز کی شرح منافع 24 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ بانڈ مارکیٹ میں مسلسل کمزوری نے سرمایہ کاروں کے جذبات کو بھی متاثر کیا اور سونے کی قیمت پر دباؤ بڑھا۔
تجزیہ کار کائل روڈا (Kyle Rodda) نے کہا کہ طویل مدت میں بنیادی عوامل سونے کے لیے معاون ہیں، جبکہ اگلا بڑا محرک مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی خطرات کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔ ان کے مطابق امریکی شرح سود سے متعلق توقعات میں نمایاں تبدیلی بھی سونے کی قیمت میں اگلی بڑی تیزی کا سبب بن سکتی ہے۔
مزید پڑھیں:خام تیل کی قیمتوں میں کمی
جمعے کو جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں امریکی روزگار میں اضافہ توقعات کے مقابلے میں زیادہ سست رہا، جبکہ گزشتہ دو ماہ کے نان فارم پے رولز میں بھی نظرثانی کرتے ہوئے کمی کی گئی۔ ان اعداد و شمار کے بعد اکتوبر میں شرح سود میں اضافے کی توقعات مزید کم ہوگئیں۔
تاہم سی ایم ای فیڈ واچ ٹول کے مطابق دسمبر میں امریکی شرح سود میں اضافے کا امکان اب بھی 87 فیصد ہے، جس سے سرمایہ کاروں کی توجہ فیڈرل ریزرو کے آئندہ فیصلوں اور معاشی اعداد و شمار پر مرکوز ہے۔
دریں اثنا، امریکی خدمات کے شعبے کی سرگرمی ستمبر میں سست پڑ گئی، جبکہ کاروباری اداروں کی جانب سے ادا کی جانے والی قیمتوں میں چار سال سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔
دیگر قیمتی دھاتوں میں بھی کمی دیکھی گئی۔ چاندی کی قیمت 0.6 فیصد، پلاٹینم 0.7 فیصد جبکہ پیلیڈیم کی قیمت 0.2 فیصد کم ہوگئی۔













منگل 6 اکتوبر 2026 

