ترامیم میں مقررہ تاریخ کے بعد ریٹرن جمع کرانے والوں کے لیے ایکٹوٹیکس پیئرز لسٹ میں شمولیت کا نیا طریقہ تجویز کیاگیا ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس رولز 2002 میں مزید ترامیم کا مسودہ جاری کردیا ہے، جس کے تحت مقررہ تاریخ کے بعد ریٹرن جمع کرانے والوں کے لیے ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں شمولیت کا نیا طریقہ تجویز کیا گیا ہے۔
ایف بی آر کے مطابق انکم ٹیکس رولز 2002 میں مزید ترامیم کا مسودہ عوامی آرا و تجاویز کے لیے جاری کردیا ہے اور مجوزہ ترامیم پر اعتراضات اور تجاویز طلب کرلی ہیں، جو نوٹیفکیشن کی سرکاری گزٹ میں اشاعت کے سات روز کے اندر ایف بی آر کو بھجوائی جاسکیں گی۔
مجوزہ رولزکے تحت غیر مقیم جہاز مالکان، چارٹررز اور مجاز شپنگ ایجنٹس کی جانب سے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 143 کے تحت ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کے طریقہ کار کو الیکٹرانک بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔
ترامیم کے مطابق دفعہ 143 کے تحت مطلوب ریٹرن ایف بی آر کے کمپیوٹرائزڈ سسٹم آئی رس میں دستیاب مخصوص الیکٹرانک ریٹرن کے ذریعے جمع کرایا جائے گا، ریٹرن میں ایف بی آر کی جانب سے وقتاً فوقتاً مقرر کردہ تفصیلات، اعلانات، بیانات، تصدیقات اور دیگر سسٹم سہولیات شامل ہوں گی جبکہ ریٹرن کے ساتھ مطلوبہ دستاویزات، سرٹیفکیٹس، بیانات اور الیکٹرانک ریکارڈ بھی فراہم کرنا ہوں گے۔
مسودے کے مطابق پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) کو موصول ہونے والی ویسل انٹی میشن رپورٹ (وی آئی آر) کے بعد متعلقہ جہاز کی معلومات الیکٹرانک طور پر آئی رس کو منتقل کی جائیں گی۔
ان معلومات میں جہاز کا نام، متوقع آمد اور روانگی کا وقت، وی آئی آر نمبر، وی آئی آرجمع کرانے والے جہاز کے ماسٹر یا مجاز شپنگ ایجنٹ کا این ٹی این جبکہ اسی وی آئی آرسے متعلق تمام شپنگ ایجنٹس اور کو لوڈرز کے این ٹی این سمیت دیگر مقررہ معلومات شامل ہوں گی۔
شپنگ ایجنٹس کی رجسٹریشن کی تفصیلات بھی پی ایس ڈبلیو اور آئی رس کے درمیان الیکٹرانک طور پر مربوط کی جائیں گی، مجوزہ طریقہ کار کے تحت متعلقہ وی آئی آرموصول ہونے پر آئی رس خودکار طور پر الیکٹرانک ریٹرن تیار کرے گا اور ہر منفرد وی آئی آر کے لیے صرف ایک ریٹرن جنریٹ ہوگا۔
ریٹرن میں متعلقہ این ٹی اینز، سفر سے حاصل ہونے والی مجموعی آمدن، جس میں فریٹ، کنٹینر ڈیٹینشن چارجز، کنٹینر سروس چارجز، ٹرمینل ہینڈلنگ چارجز اور دفعہ سات کے تحت قابل ٹیکس دیگر وصولیاں شامل ہوں گی، اس کے علاوہ متعلقہ ٹیکس ادائیگیوں کی تفصیلات بھی ظاہر ہوں گی۔
ایف بی آر کے مسودے کے مطابق جہاز کا ماسٹر، مجاز شپنگ ایجنٹ اور متعلقہ لوڈر مقررہ وی آئی آر کے خلاف مخصوص پی ایس آئی ڈی جنریٹ کریں گے اور فریٹ اور ٹیکس واجبات سے متعلق مطلوبہ تفصیلات فراہم کریں گے۔
پی ایس آئی ڈی کے ذریعے ادائیگی پر خودکار طور پر سی پی آر جاری ہوگا، جس سے متعلقہ وی آئی آر اور این ٹی این کے ساتھ الیکٹرانک طور پر منسلک کیا جائے گا اور ادائیگی کی تفصیلات متعلقہ ریٹرن میں خودکار طور پر شامل ہوجائیں گی۔
ریٹرن اس وقت تک جمع نہیں ہوسکے گا جب تک متعلقہ وی آئی آرکے تحت تمام مطلوبہ ادائیگیاں نہ ہوجائیں اور سی پی آرزریٹرن کے ساتھ منسلک نہ ہوجائیں، مسودے کے تحت ریٹرن جمع کراتے وقت یا دفعہ 143 کے تحت توسیع کی درخواست دیتے وقت جہاز کا ماسٹر یا مجاز شپنگ ایجنٹ الیکٹرانک اعلان بھی دے گا۔
متعلقہ وی آئی آرسے وابستہ تمام شپنگ ایجنٹس اور کو لوڈرز کی جانب سے ریٹرن جمع کرایا گیا ہے اور فراہم کردہ معلومات درست، مکمل اور صحیح ہیں دفعہ 143 کے تحت ریٹرن جمع کرانے کے لیے توسیع کی درخواست کی صورت میں جہاز کی روانگی سے قبل درخواست دینا ہوگی اور توسیع کی وجہ واضح کرنا ہوگی۔
مسودے کے مطابق درخواست کے ساتھ دفعہ 7 کے تحت قابل ٹیکس متوقع مجموعی رقم اور متوقع ٹیکس واجب الادا رقم بھی بتانا ہوگی، اس کے علاوہ مقررہ مدت میں ریٹرن جمع کرانے کی یقین دہانی، متعلقہ سفری دستاویزات اور متوقع ٹیکس واجب الادا رقم کے مساوی سیکیورٹی فراہم کرنا ہوگی۔
سیکیورٹی بینک گارنٹی، پے آرڈر یا ایسا پوسٹ ڈیٹڈ چیک ہوسکتا ہے جس کی تاریخ جہاز کی روانگی سے 30 دن سے زیادہ آگے کی نہ ہومجوزہ ترامیم کے مطابق ریٹرن جمع ہونے اور ٹیکس کی ادائیگی یا دفعہ 143 کے تحت توسیع کی درخواست منظور ہونے کے بعد آئی رس اس کی تصدیق پی ایس ڈبلیو کو الیکٹرانک طور پر منتقل کرے گا، جس سے پی ایس ڈبلیو کسٹمز کلکٹر یا ایف بی آر کے مجاز افسر کے لیے دستیاب کرائے گا۔
ایف بی آر کے مسودے میں مزید کہا گیا ہے کہ پی ایس آئی ڈی اور سی پی آر کے ذریعے فراہم کردہ معلومات انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت ریکارڈ کا حصہ ہوں گی اور انہیں اسیسمنٹ، ترمیم، آڈٹ، تصدیق، نفاذ، ریکوری یا دیگر کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔
متعلقہ شپنگ ایجنٹس، کو لوڈرز، مجاز شپنگ ایجنٹس، غیر مقیم جہاز مالکان، چارٹررز، آپریٹرز، جہاز کے ماسٹرز اور دیگر متعلقہ افراد کو ضرورت پڑنے پر اکاؤنٹس، فریٹ ریکارڈ، مینی فیسٹس، معاہدے، الیکٹرانک ریکارڈ اور دیگر معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔
مزید پڑھیں:آئی ایم ایف کی پٹرول سبسڈی اسکیم جاری رکھنے پر مشروط رضامندی
مسودے کے مطابق دفعہ 143 کے تحت قابل ادائیگی ٹیکس کی ریکوری کی کارروائی مجاز شپنگ ایجنٹ کے خلاف انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت کی جائے گی، تاہم مجاز شپنگ ایجنٹ کو یہ رقم جہاز کے ماسٹر، چارٹرڈ، شپنگ ایجنٹس، کو لوڈرز یا متعلقہ ریٹرن سے وابستہ دیگر افراد سے آرڈیننس کے مطابق وصول کرنے کا حق متاثر نہیں ہوگا۔













منگل 6 اکتوبر 2026 

