عالمی منڈی میں جمعرات کو سونے کی قیمت(Gold Rates) میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بنیادی وجہ ڈالر کی قدر میں 18 ماہ کی بلند ترین سطح سے کمی ہے۔ اس اضافے کے بعد سونے کی قیمت دو ماہ کی کم ترین سطح سے کچھ بحال ہوئی، تاہم سرمایہ کار امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے رواں سال شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.5 فیصد اضافے کے بعد 4,132.66 ڈالر فی اونس ہوگئی، جبکہ دسمبر میں فراہمی کے لیے امریکی سونے کے سودے 0.4 فیصد بڑھ کر 4,157.60 ڈالر فی اونس پر پہنچ گئے۔
بدھ کو سونے کی قیمت 5 اگست کے بعد کی کم ترین سطح پر آگئی تھی۔ ڈالر کی مضبوطی اور امریکی ٹریژری بانڈز کے منافع میں اضافے نے قیمتی دھات کی قیمت پر دباؤ ڈالا تھا۔
پیپر اسٹون کے سربراہ تحقیق کرس ویسٹن کا کہنا ہے کہ مختصر مدت میں سونے میں سرمایہ کاری کے امکانات اب بھی محدود ہیں، جبکہ قیمت میں نمایاں بہتری کے لیے 4,275 ڈالر فی اونس کی سطح عبور کرنا ضروری ہوگی۔
مزید پڑھیں:عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
دوسری جانب گزشتہ ماہ امریکی فیڈرل ریزرو کے پالیسی سازوں میں شرح سود بڑھانے کے معاملے پر اختلافات سامنے آئے۔ اجلاس کی تفصیلات کے مطابق بعض عہدیداروں نے توانائی اور دیگر اشیا کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات محدود رکھنے کے لیے شرح سود میں اضافے کی حمایت کی، جبکہ دیگر نے طلب کے باعث مہنگائی بڑھنے کے خدشات کو اہم قرار دیا۔
سی ایم ای کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق رواں ماہ شرح سود میں اضافے کا امکان 18 فیصد، جبکہ دسمبر میں اضافے کا امکان 80 فیصد ظاہر کیا جا رہا ہے۔ شرح سود میں اضافہ عام طور پر سونے کی کشش کم کرتا ہے، کیونکہ اس سے سرمایہ کاروں کو کوئی باقاعدہ منافع حاصل نہیں ہوتا۔
ادھر آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے خبردار کیا ہے کہ بلند توانائی قیمتیں، ریکارڈ سرکاری قرضے اور مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری سے وابستہ خطرات عالمی معیشت کے لیے بڑے چیلنج بن رہے ہیں۔













جمعرات 8 اکتوبر 2026 

