معروف برطانوی اخبار کی رپورٹس کے مطابق برطانوی حکومت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ چین کی جانب سے مارکیٹ میں سرکاری سبسڈی یافتہ الیکٹرک گاڑیاں سستے داموں فراہم کیے جانے کے رجحان کو روکنے کے لیے چینی ای ویز (EVs) پر درآمدی محصولات عائد کیے جائیں۔
رپورٹس کے مطابق بزنس منسٹر جوناتھن رینالڈز اس وقت چینی گاڑیوں کی درآمد پر ممکنہ ٹیرف کا ایک نیا پیکج تیار کر رہے ہیں، کیونکہ حکام کو یہ شدید خدشہ لاحق ہے کہ چینی مینوفیکچررز اپنی سبسڈی یافتہ گاڑیاں برطانیہ کی مارکیٹ میں ڈمپ کر رہے ہیں۔ اگرچہ روئٹرز کی جانب سے اس رپورٹ کی فوری طور پر سرکاری تصدیق نہیں کی گئی، تاہم برطانوی حکومت کے ترجمان کا ایک ای میل کے ذریعے کہنا ہے کہ تاحال چینی الیکٹرک گاڑیوں پر کوئی حتمی ٹیرف عائد نہیں کیا گیا، اور حکومت صنعتی اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھتی ہے تاکہ قومی مفادات اور سیکٹر کے تقاضوں کے مطابق بہترین لائحہ عمل اختیار کیا جا سکے۔
اخبار کے مطابق برطانوی وزراء یورپی یونین کے اس 45 فیصد ٹیکس یا لیوی کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں جو وہ چینی الیکٹرک گاڑیوں پر عائد کر رہے ہیں، تاکہ مڈ اِن یورپ کی ان تجاویز سے بچا جا سکے جو برطانیہ کی ان کمپنیوں کو متاثر کر سکتی ہیں جو یورپی یونین کی مارکیٹ میں گاڑیاں فروخت کرتی ہیں۔ یورپی یونین کی اس پالیسی کا بنیادی مقصد چینی پرزہ جات پر انحصار کم کرنا ہے، جس کی وجہ سے برطانوی کار ساز اداروں میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ وہ سپلائی چین اور یورپی مارکیٹ سے باہر نہ ہو جائیں۔ اس کے علاوہ برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر اور دیگر حکام سے بھی برسلز کی جانب سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگر برطانیہ مڈ اِن یورپ کی پابندیوں سے بچنا چاہتا ہے تو اسے یورپی تجارت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے ہوئے چینی گاڑیوں پر ٹیرف بڑھانا ہوں گے۔ تاہم حکومت کے اعلیٰ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں کوئی بھی فیصلہ خودکار طور پر یورپی یونین کی پیروی کرنے کے بجائے برطانیہ کے اپنے قومی مفاد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔













ہفتہ 10 اکتوبر 2026 

