(Petrol)ایران امریکا کشیدگی، عالمی تیل منڈی میں بے یقینی اور درآمدی اخراجات نے پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو بری طرح متاثر کیا ہے، پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں رواں سال غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا،
جہاں مارچ میں قیمت 266 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر اپریل کے آغاز میں 458 روپے سے تجاوز کر گئی، تاہم حکومت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی میں کمی کے بعد قیمت میں ایک ہی روز میں 80 روپے فی لیٹر کمی کر دی گئی۔ اس کے بعد قیمتوں میں دوبارہ اضافے اور کمی کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال نے ملکی ایندھن کی قیمتوں کو مسلسل دباؤ میں رکھا۔
پیٹرول کی قیمتوں کی تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت اہم کردار ادا کرتی ہے، تاہم پاکستان میں پیٹرول کا حتمی نرخ صرف خام تیل کی قیمت سے طے نہیں ہوتا۔ اس میں درآمدی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت، عالمی منڈی میں تیار شدہ ایندھن کے نرخ، درآمدی پریمیئم، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر، مال برداری اور انشورنس کے اخراجات، ٹیکس اور پیٹرولیم لیوی بھی شامل ہوتے ہیں۔
مارچ: 266 روپے سے 321 روپے فی لیٹر تک اضافہ
سال 2026 کے آغاز میں پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 253.17 روپے فی لیٹر تھی، جو فروری میں معمولی اضافے کے بعد 258.17 روپے ہو گئی۔ یکم مارچ کو قیمت بڑھ کر 266.17 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔
مارچ کے پہلے ہفتے میں قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافے کے بعد پیٹرول 321.17 روپے پر پہنچ گیا، جہاں یہ ماہ کے بیشتر حصے میں برقرار رہا۔ اس طرح یکم مارچ کے مقابلے میں پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور مشرق وسطیٰ میں جنگی صورت حال کے باعث عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی بڑھی۔ اس کے نتیجے میں تیل کی سپلائی، بحری راستوں اور درآمدی لاگت سے متعلق خدشات نے پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کو متاثر کیا۔ مارچ کے اختتام تک پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 321.17 روپے فی لیٹر تھی۔
اپریل: پیٹرول 458 روپے سے تجاوز کر گیا
اپریل کے آغاز میں چند دنوں میں پیٹرول کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ 3 اپریل کو حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 137.24 روپے فی لیٹر اضافہ کرتے ہوئے اسے 321.17 روپے سے بڑھا کر 458.41 روپے فی لیٹر کر دیا۔ یہ اس وقت ملکی تاریخ کی بلند ترین قیمتوں میں شامل تھی۔
اس اضافے کے بعد عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا، جس کے بعد حکومت نے اگلے ہی روز پیٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا۔ 4 اپریل سے پیٹرول کی قیمت 458.41 روپے سے کم ہو کر 378.41 روپے فی لیٹر ہو گئی۔
مزید پڑھیں:امریکی صدر ٹرمپ نوبیل امن انعام نہ ملنے پر شدید برہم ، فیصلے کو شرمناک قرار دے دیا
حکومتی اعلان کے مطابق یہ کمی ایک ماہ کے لیے مؤثر رکھی گئی تھی۔ اس فیصلے سے ایک روز پہلے کیے گئے بڑے اضافے کا کچھ حصہ واپس لے لیا گیا، تاہم قیمت مارچ کے بیشتر حصے میں رائج 321 روپے کے نرخ سے اب بھی خاصی زیادہ رہی۔
اپریل کے دوسرے ہفتے میں پیٹرول کی قیمت مزید کم ہو کر 366.58 روپے فی لیٹر ہو گئی، لیکن مہینے کے آخری حصے میں عالمی منڈی اور درآمدی لاگت کے دباؤ کے ساتھ قیمت دوبارہ بڑھنے لگی۔ 25 اپریل کو پیٹرول 393.35 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا۔
مئی: قیمت دوبارہ 414 روپے سے تجاوز کر گئی
مئی کے آغاز میں پیٹرول کی قیمت تقریباً 400 روپے فی لیٹر رہی۔ یکم مئی کو قیمت 399.86 روپے فی لیٹر ریکارڈ کی گئی، جبکہ 9 مئی کو مزید 14.92 روپے اضافے کے بعد پیٹرول 414.78 روپے فی لیٹر ہو گیا۔
یہ اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اپریل میں حکومتی ریلیف کے باوجود پیٹرول کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہا۔ مئی کے دوران بھی عالمی منڈی میں تیل کی صورت حال، درآمدی مصنوعات کے نرخ اور ملکی قیمتوں کے تعین میں شامل دیگر عوامل اہم رہے۔
قیمتوں کے دستیاب ریکارڈ کے مطابق مئی کے وسط میں پیٹرول 409.78 روپے اور 9 مئی کو 414.78 روپے فی لیٹر تھا۔ اس کے بعد قیمت میں بتدریج کمی ہوئی اور 30 مئی کو یہ 381.78 روپے فی لیٹر پر آ گئی۔
جون اور جولائی: قیمتوں میں نمایاں کمی
مئی کے اختتام کے بعد پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری رہا۔ جون کے پہلے ہفتے میں قیمت 377.78 روپے فی لیٹر ریکارڈ کی گئی، جبکہ 13 جون کو یہ 373.78 روپے ہو گئی۔
20 جون کو پیٹرول کی قیمت میں 74.28 روپے فی لیٹر کی بڑی کمی ہوئی اور نرخ 299.50 روپے فی لیٹر تک آ گیا۔ اس کے بعد 27 جون کو قیمت اسی سطح پر برقرار رہی۔
4 جولائی کو پیٹرول کی قیمت مزید کم ہو کر 297.53 روپے فی لیٹر ریکارڈ کی گئی۔ یوں مئی میں 414.78 روپے کی سطح کے مقابلے میں جولائی کے آغاز تک قیمت میں 117 روپے سے زیادہ کمی واقع ہو چکی تھی۔
خام تیل کی قیمت اور پاکستان میں پیٹرول کے نرخوں کا تعلق
پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت اور مقامی پیٹرول کے نرخوں میں تعلق ضرور ہے، لیکن دونوں میں ہر وقت یکساں تناسب سے تبدیلی نہیں ہوتی۔
اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ خام تیل اور تیار شدہ پیٹرول الگ الگ تجارتی مصنوعات ہیں۔ پاکستان اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدی خام تیل کے ساتھ تیار شدہ پیٹرولیم مصنوعات پر بھی انحصار کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں پیٹرول کے تیار شدہ نرخ اور درآمدی پریمیئم بھی مقامی قیمتوں کو متاثر کرتے ہیں۔
اسی طرح روپے کی قدر میں کمی، بحری جہازوں کی مال برداری، انشورنس، سپلائی روٹس میں رکاوٹیں اور حکومتی ٹیکسوں میں تبدیلی بھی صارفین کو فروخت کیے جانے والے پیٹرول کے نرخ پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
موجودہ صورت حال: قیمت پھر 400 روپے کے قریب
اکتوبر کے آغاز میں پیٹرول کی قیمت میں معمولی ردوبدل کے بعد دوبارہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دستیاب قیمتوں کے ریکارڈ کے مطابق یکم اکتوبر کو پیٹرول 387.40 روپے فی لیٹر تھا، جبکہ بعد کی تبدیلیوں کے نتیجے میں قیمت 400 روپے کے قریب پہنچ گئی۔ 9 اکتوبر کے دستیاب نرخ کے مطابق پیٹرول کی قیمت 398.96 روپے فی لیٹر تھی۔
اس طرح جولائی کے آغاز میں تقریباً 298 روپے فی لیٹر کی قیمت کے مقابلے میں اکتوبر کے آغاز تک پیٹرول دوبارہ تقریباً 400 روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔ یہ اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ قیمتوں میں وقتی کمی کے باوجود عالمی تیل منڈی اور مقامی قیمتوں کے تعین سے وابستہ عوامل صارفین کے لیے مسلسل اہم رہے۔
ماہرین کے نقطۂ نظر سے قیمتوں کا درست تقابل کرنے کے لیے صرف خام تیل کے فی بیرل نرخ دیکھنا کافی نہیں۔ اس کے ساتھ اسی تاریخ کے درآمدی پیٹرول کے نرخ، روپے کی قدر، پیٹرولیم لیوی، عمومی سیلز ٹیکس یا دیگر قابل اطلاق محصولات، اور حکومتی قیمتوں کے نوٹیفکیشن کا جائزہ بھی ضروری ہے۔
مجموعی طور پر رواں سال پاکستان میں پیٹرول کی قیمت مارچ کے آغاز میں 266 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر اپریل میں 458 روپے سے تجاوز کر گئی، پھر حکومتی فیصلے کے بعد 378 روپے تک کم ہوئی، مئی میں دوبارہ 414 روپے سے تجاوز کر گئی اور جولائی کے آغاز میں تقریباً 298 روپے تک آ گئی۔ اکتوبر میں قیمت ایک بار پھر 400 روپے کے قریب پہنچ گئی۔ یہ سلسلہ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں، علاقائی کشیدگی، درآمدی اخراجات اور ملکی محصولات کے امتزاج نے پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں کو غیر معمولی طور پر متغیر رکھا۔













ہفتہ 10 اکتوبر 2026 

