دبئی/واشنگٹن: خلیجی خطے اور مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر تباہ کن جنگ کے خطرات سر اٹھانے لگے ہیں۔ دنیا کے معتبر ترین میڈیا نیٹ ورک “گلف نیوز” (Gulf News) کی تازہ ترین ٹاپ اسٹوری کے مطابق، امریکی بحریہ کے جنگی طیاروں اور ایئر کرافٹ کیریئرز کی خطے میں بڑھتی ہوئی نقل و حرکت نے ایک نئے عسکری بحران کو جنم دے دیا ہے۔ واشنگٹن اور اسرائیل کی طرف سے تہران کو لگاتار ملنے والی سنگین دھمکیوں کے بعد یہ سوال ہر زبان پر ہے کہ کیا آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ ایک اور بڑی جنگ کی لپیٹ میں آنے والا ہے؟
امریکہ اور اسرائیل کی نئی عسکری تیاریاں اور دھمکیاں:
تفصیلات کے مطابق، امریکی صدر اور اسرائیلی عسکری قیادت کے درمیان ہونے والے حالیہ رابطوں کے بعد خلیجی سمندروں میں جنگی جہازوں اور لڑاکا طیاروں کا اجتماع بڑھ گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب کی مشترکہ حکمت عملی کے تحت تہران پر سفارتی اور فوجی دباؤ کو انتہا تک پہنچا دیا گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق، خطے میں موجود امریکی بحریہ کے بیڑے کسی بھی ناگوار اور ہنگامی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہائی الرٹ پوزیشن پر ہیں، جس سے ایران اور حلیف ملیشیاؤں کے ساتھ براہِ راست مسلح تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
پانچ بڑے سوالات جو پوری دنیا کی توجہ کا مرکز ہیں:
گلف نیوز کی اس تفصیلی رپورٹ میں پانچ ایسے بنیادی اور سلگتے ہوئے سوالات اٹھائے گئے ہیں جو موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں:
1. کیا امریکہ اور اسرائیل واقعتاً ایران کے عسکری اور جوہری تنصیبات پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کا ارادہ رکھتے ہیں؟
2. کیا ایران کی طرف سے کسی بھی ممکنہ جارحیت کے جواب میں خلیجی ریاستوں میں موجود مغربی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے؟
3. کیا آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی بین الاقوامی تجارتی ناکہ بندی کا خطرہ حقیقت بن چکا ہے؟
4. اس ممکنہ تصادم کے عالمی معیشت اور تیل (Oil Prices) کی قیمتوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
5. کیا خطے کے دیگر ممالک اس تباہ کن جنگ کو روکنے کے لیے کوئی موثر سفارتی ثالثی کرنے میں کامیاب ہو پائیں گے؟
آبنائے ہرمز سے متعلق وائرل ویڈیوز اور حقائق:
اسی تناظر میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان وائرل ویڈیوز پر بھی بحث چھڑ گئی ہے جن میں آبنائے ہرمز کے پانیوں میں مبینہ طور پر آئی فونز اور دیگر اشیاء کے تیرنے کے دعوے کیے جا رہے تھے۔ حقائق کی جانچ پڑتال (Fact-check) کرنے والے اداروں نے واضح کیا ہے کہ یہ ویڈیوز یا تو مصنوعی ذہانت (AI) کا کرشمہ ہیں یا پرانے پُراسرار مناظر کا غلط استعمال ہیں، جن کا موجودہ بحران سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہے، تاہم یہ افواہیں خطے میں نفسیاتی خوف پھیلانے کا سبب ضرور بن رہی ہیں۔
علاقائی ردعمل اور سفارتی کوششیں:
دوسری جانب کویت کے امیر شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح سے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی ملاقات اور خلیجی دورے کا آغاز اس بات کا ثبوت ہے کہ یورپی ممالک بھی اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کے لیے سرگرم ہو چکے ہیں۔ خلیجی ممالک کے رہنماؤں نے زور دیا ہے کہ خطے میں امن اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے تمام فریقین کو انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا، کیونکہ ایک اور جنگ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت کو تباہ کر کے رکھ دے گی۔













منگل 20 اکتوبر 2026 

