ٹرمپ، پیوٹن اور شی جن پنگ ملاقات کی خبریں: کب اور کیوں ملنے جا رہے ہیں؟

Calender Icon پیر 19 اکتوبر 2026

8 فروری 2025 کو کریمیا کی ایک آرٹ گیلری میں شرکاء امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ کے فن پارے کا معائنہ کر رہے ہیں۔: رائٹرز)

روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اگلے ماہ سہ فریقی سربراہی اجلاس منعقد کرنے کی تجویز دی ہے، جس میں یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت کی جا سکتی ہے۔

امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے اتوار کو اس معاملے سے واقف ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ مجوزہ مذاکرات سے روس کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ٹرمپ اور پیوٹن کے تعلقات میں گرم جوشی دیکھی جا رہی ہے۔ امریکی صدر نے روسی ڈیزل خریدنے کے معاہدے کا اعلان کیا ہے، جبکہ جمعے کو ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے روس پر عائد بعض اہم پابندیوں میں چھوٹ بھی دی گئی۔

اپنی رپورٹ میں وال اسٹریٹ جرنل نے ایک سابق روسی انٹیلی جنس اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ پیوٹن نے 9 اکتوبر کو ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران سہ فریقی اجلاس کی تجویز پیش کی تھی۔اخبار کے مطابق اسی گفتگو کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان ڈیزل کا معاہدہ بھی طے پایا۔

رپورٹ کے مطابق روس نے آئندہ ماہ چین کے شہر شینزن میں ہونے والے ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (اے پی ای سی) اجلاس کے موقع پر تینوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کی تجویز دی ہے۔ یہ اجلاس 18 اور 19 نومبر کو منعقد ہونا ہے۔

روسی ترجمان دمتری پیسکوف نے اخبار کو بتایا کہ ممکنہ ملاقات کے حوالے سے بات چیت جاری ہے، تاہم ابھی اس کے انعقاد یا ایجنڈے کے بارے میں واضح فیصلہ نہیں ہوا۔ ان کے مطابق، تینوں فریق اس طرح کی ملاقات کے امکان کو تسلیم کرتے ہیں۔

ایک سینئر امریکی عہدیدار نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ ٹرمپ نے تاحال اس سربراہی اجلاس پر اتفاق نہیں کیا، تاہم وہ اس تجویز پر غور کرنے کے لیے آمادہ ہو سکتے ہیں۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی ملاقات کے حوالے سے بات چیت ہونے کا اشارہ دیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق ٹرمپ، پیوٹن اور شی جن پنگ کی ممکنہ ملاقات کے بارے میں ایک صحافی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے بات چیت ہوئی ہے، تاہم انہیں معلوم نہیں کہ ملاقات حتمی طور پر طے پا چکی ہے یا نہیں۔ ان کے بقول، ٹرمپ واضح کر چکے ہیں کہ وہ یوکرین اور روس کے درمیان جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیں:فنڈز کی کمی، ورلڈ فوڈ پروگرام کا 5 لاکھ فلسطینیوں کی غذائی امداد بند کرنے کا فیصلہ

دوسری جانب، یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روسی ڈیزل کے معاہدے اور ماسکو پر پابندیوں میں نرمی پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے پیوٹن کی حوصلہ افزائی ہوگی اور جنگ طویل ہو سکتی ہے۔