دفاعی چیمپئن بھارت نے 2023 اور 2025 میں آئی سی سی انڈر 19 ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے ابتدائی دونوں ایڈیشنز جیتے تھے۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے انڈر 19 ویمنز ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ورلڈ کپ 2027 کا شیڈول جاری کردیا جس کے مطابق ٹورنامنٹ 21 جنوری سے 6 فروری تک مشترکہ طور پر بنگلا دیش اور نیپال میں کھیلا جائے گا۔
آئی سی سی کے مطابق ایونٹ میں 16 ٹیمیں شرکت کریں گی جن کے درمیان 41 میچز کھیلے جائیں گے۔ٹورنامنٹ کے تیسرے ایڈیشن میں شریک ٹیموں کو 4 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔
آئی سی سی کے مطابق پاکستان کو گروپ بی میں جنوبی افریقا، نیوزی لینڈ اور ساموا کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ گروپ مرحلے میں پاکستان کا مقابلہ ان تینوں ٹیموں سے ہوگا۔
گروپ اے میں بھارت، آئرلینڈ، ویسٹ انڈیز اور میزبان نیپال شامل ہیں جبکہ گروپ سی میں آسٹریلیا، بنگلا دیش، نائیجیریا اور متحدہ عرب امارات کی ٹیمیں شامل ہیں۔گروپ ڈی میں انگلینڈ، سری لنکا، امریکا اور اسکاٹ لینڈ کو جگہ دی گئی ہے۔
ٹورنامنٹ کے میچز بنگلا دیش کے شہروں چٹاگانگ اور سلہٹ جبکہ نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں کھیلے جائیں گے۔
افتتاحی روز 4 میچز کھیلے جائیں گے۔ بنگلا دیش کی ٹیم متحدہ عرب امارات کے مدمقابل ہوگی جبکہ گزشتہ ایڈیشن کی رنر اپ آسٹریلیا کی ٹیم نائیجیریا سے کھیلے گی۔
اسی روز نیپال میں سری لنکا اور اسکاٹ لینڈ کے درمیان مقابلہ ہوگا جبکہ انگلینڈ کی ٹیم امریکا کے خلاف میدان میں اترے گی۔
2مرتبہ کی دفاعی چیمپئن بھارت 22 جنوری کو کھٹمنڈو کے ٹی یو انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنی مہم کا آغاز کرے گی۔ میزبان نیپال اسی روز آئرلینڈ کے خلاف کھیلے گا، جبکہ نیوزی لینڈ کا سامنا ساموا اور جنوبی افریقا کا مقابلہ پاکستان سے ہوگا۔
گروپ مرحلے کے میچز 26 جنوری تک جاری رہیں گے جس کے بعد کوالیفائی کرنے والی ٹیمیں سپر سکس مرحلے میں پہنچیں گی۔ ٹیموں کو 2 گروپس میں تقسیم کیا جائے گا اور ہر گروپ کی ٹاپ 2 ٹیمیں سیمی فائنل میں جگہ بنائیں گی۔
سیمی فائنلز 4 فروری کو چٹاگانگ میں کھیلے جائیں گے جبکہ 5 فروری کو ریزرو ڈے رکھا گیا ہے۔ٹورنامنٹ کا فائنل 6 فروری کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بج کر 30 منٹ پر کھیلا جائے گا۔ فائنل کے لیے 7 فروری ریزرو ڈے مقرر کیا گیا ہے۔
شیڈول کے مطابق صبح کے میچز مقامی وقت کے مطابق ساڑھے 9 بجے جبکہ دوپہر کے میچز ڈیڑھ بجے شروع ہوں گے۔
آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو سنجوگ گپتا نے کہا کہ انڈر 19 ورلڈ کپ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے اپنی صلاحیتیں منوانے اور اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے اعلیٰ سطح پر پہنچنے کا اہم پلیٹ فارم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 16 ٹیموں کی نوجوان کھلاڑیوں پر دنیا کی توجہ ہوگی اور وہ کرکٹ کھیلنے والی کم عمر لڑکیوں کے لیے رول ماڈل بن سکتی ہیں۔
مزید پرھیں:جغرافیائی اعتبار سے پاکستان کیساتھ تعلقات برقرار رکھنا ضروری ہے، امریکہ
انہوں نے کہا کہ بنگلا دیش اور نیپال کو میزبان منتخب کرنا آئی سی سی کے کرکٹ کے مستقبل میں اعتماد اور سرمایہ کاری کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی آبادی کا تقریباً 40 فیصد حصہ 20 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔













بدھ 21 اکتوبر 2026 

