مشرق وسطیٰ میں اضافی امریکی بحری بیڑے تعینات، کیا نئی جنگ شروع ہونیوالی ہے

Calender Icon بدھ 21 اکتوبر 2026

دبئی: خبر رساں ادارے کے مطابق، امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی کوششیں شدید تعطل کا شکار ہو گئی ہیں جس کے بعد واشنگٹن نے نبرد آزما عسکری صلاحیتوں کو بڑھاتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں ہزاروں فوجیوں پر مشتمل اضافی بحری بیڑے بھیجنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تہران کی جانب سے یورینیم کی منتقلی اور امریکی شرائط کو مسترد کیے جانے کے بعد خطے اور آبنائے ہرمز میں ایک بار پھر بڑے عسکری تصادم کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

امریکہ کی مشرق وسطیٰ میں اضافی بحری بیڑوں اور فوجیوں کی تعیناتی: ایران کے ساتھ جوہری کشیدگی کے بعد کیا نئی جنگ چھڑنے والی ہے؟
خبر رساں ادارے کے مطابق، امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی کوششیں شدید تعطل کا شکار ہو گئی ہیں جس کے بعد خطے میں نبرد آزما عسکری صلاحیتوں کو بڑھاتے ہوئے امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں ہزاروں فوجیوں پر مشتمل اضافی بحری بیڑے بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد پوری دنیا کی نظریں خلیجی خطے اور آبنائے ہرمز پر ٹکی ہوئی ہیں، جہاں امریکہ کی فوجی کمک اور تہران کے ڈٹ جانے سے ایک نیا عسکری تصادم چھڑنے کا خطرہ پیدا ہو چکا ہے۔

امریکہ کا فوجی قدم اور بحری بیڑوں کی پیش قدمی
تفصیلات کے مطابق، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر مزید ممکنہ حملوں پر غور کے درمیان امریکی دفاعی اداروں نے خطے میں اپنی موجودگی کو نچلی سطح سے بڑھا کر انتہائی فعال بنا دیا ہے۔ یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ (USS Theodore Roosevelt) ایئر کرافٹ کیریئر اسٹرائیک گروپ اور یو ایس ایس میکن آئی لینڈ (USS Makin Island) ایمفیبیئس گروپ کو مشرق وسطیٰ کی حدود میں بھیجا جا رہا ہے۔

فنانشل ٹائمز اور یو ایس نیول انسٹی ٹیوٹ کی جاری کردہ رپورٹس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس نئی تعیناتی کے تحت تقریباً 9,000 امریکی سیلرز اور میرینز (بحری و عسکری اہلکار) خطے کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں۔تھیوڈور روزویلٹ بیڑا 27 ستمبر کو سان ڈیگو کی بندرگاہ سے روانہ ہوا تھا اور یہ بحیرہ عرب اور خلیجی حدود میں پہلے سے تعینات امریکی بحری اثاثوں کو مدد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ جاپان میں قائم یو ایس ایس جارج واشنگٹن کی جگہ لے گا۔ امریکی دفاعی ماہرین کے مطابق اگرچہ صرف ایک بحری بیڑے کا بدلنا فوری طور پر جنگ کی حتمی دلیل نہیں ہوتا، لیکن اتنی بڑی تعداد میں بحری فورسز کا اکٹھا ہونا واشنگٹن کو فضائی، بحری اور تجارتی ناکہ بندی جیسی کارروائیوں میں مکمل لچک فراہم کرتا ہے۔

دوسری جانب، تہران کی سیاسی اور عسکری قیادت نے امریکی فوجی دباؤ اور دھمکیوں کے سامنے جھکنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ تہران میں پاکستان کے عسکری سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اہم دورے کے موقع پر ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے انتہائی سخت اور دوٹوک پیغام دیا۔

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق محسن رضائی نے واضح الفاظ میں کہا:ایران کی سرزمین سے افزودہ کیے گئے جوہری مواد کا ایک چھوٹا سا ذرہ بھی ملک سے باہر نہیں بھیجا جائے گا۔ یہ یورینیم ہماری قومی ملکیت اور اثاثہ ہے، اور جب تک امریکہ اعتماد سازی کے سنجیدہ اقدامات نہیں کرتا، تب تک کسی قسم کے مذاکرات کا دوبارہ آغاز ممکن نہیں ہے۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی امریکی فوجی دھمکیوں کے تحت بات چیت کی تجویز کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی اسپیکر نے واضح کیا کہ اگر امریکہ واقعی امن چاہتا ہے تو اسے ایران کی سات بنیادی شرائط تسلیم کرنا ہوں گی۔ ان شرائط میں:
1. ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کا فوری خاتمہ۔
2. امریکہ کے پاس موجود تمام منجمد ایرانی مالیاتی اثاثوں کی واگزاری۔
3. تمام اقتصادی و معاشی پابندیوں کی اٹھائی۔
4. خطے میں جاری جارحانہ اور عسکری کارروائیوں پر مکمل روک۔

ایران نے ماضی میں اپنے ملک کے اندر ہی 60 فیصد تک افزودہ کی گئی یورینیم کو پتلا (Dilute) کرنے کا اشارہ تو دیا تھا، لیکن اس مواد کو امریکی منشا کے مطابق بیرونِ ملک منتقل کرنے کی تجویز کو ملکی خود مختاری کے خلاف قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی بات چیت منجمد ہونے اور تعطل کا شکار ہونے کی پانچ اہم اور بنیادی وجوہات سامنے آئی ہیں:

1.یورینیم کا تنازع:
امریکہ چاہتا ہے کہ ایران تمام اعلیٰ درجے کی افزودہ یورینیم کو بیرونِ ملک منتقل کر دے تاکہ وہ کبھی جوہری ہتھیار نہ بنا سکے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ ایٹمی بم بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور وہ اپنے ملک کے اندر ہی اس مواد کو کنٹرول کرے گا۔

2. ایرانی شرائط:
تہران امریکی ناکہ بندی کے خاتمے اور منجمد اثاثوں کی بحالی کے بغیر کسی تحریری معاہدے پر دستخط نہ کرنے پر ضائع ہے، جسے واشنگٹن قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔

3.اعتماد کا فقدان:
دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان اپنی آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔ ایران کو خدشہ ہے کہ اگر وہ اپنے نیوکلیئر اثاثے حوالے کر بھی دے، تب بھی امریکہ اس پر دوبارہ حملے کر سکتا ہے۔

4. ایرانی سخت گیر حلقوں کے تحفظات:
تہران میں موجود سخت گیر سیاسی و عسکری حلقے اس بات پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا غیر ملکی ثالثوں سے بات چیت کا کوئی فائدہ بھی ہے یا یہ صرف امریکہ کو وقت فراہم کرنے کا طریقہ ہے۔

5.خطے میں پھیلاؤ کے خطرات:
آبنائے ہرمز میں عالمی تجارتی بحری جہازوں، زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز اور تیل کی تنصیبات کو لاحق خطرات نے حالات کو انتہائی تشویشناک بنا دیا ہے۔

پاکستان، روس اور دیگر ممالک کا سفارتی و ثالثی کردار
مشرق وسطیٰ کو ایک تباہ کن جنگ سے بچانے کے لیے پاکستان اور روس سمیت چند اہم ممالک مسلسل ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے فضائی و عسکری حملوں کے بعد پیدا ہونے والے بحران کو تھامنے کے لیے اسلام آباد نے بنیادی کردار ادا کیا تھا۔

پاکستان کی کاوشوں کے نتیجے میں رواں برس اپریل میں عارضی سیز فائر ممکن ہو سکا تھا، جس کے بعد جون میں ایک پائیدار امن فریم ورک کی یادداشت (MoU) تیار کی گئی تھی، مگر بعد میں یورینیم کی تنازعہ کی وجہ سے یہ کاوشیں بھی رک گئیں۔ حال ہی میں پاکستان کے عسکری سربراہ کی تہران میں ایرانی صدر اور دفاعی حکام سے اہم ملاقاتیں ہوئیں، جب کہ روس کے وزیر خارجہ سیرگے لاروف نے بھی تہران کا دورہ کیا۔ تاہم، ان اعلیٰ سطح کی کوششوں کے باوجود تہران اور واشنگٹن کے درمیان برف نہ پگھل سکی۔

امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ مختلف ممالک کی جانب سے جاری سفارتی ثالثی کو خوش آمدید کہتا ہے، لیکن نفاذ کے لیے حتمی شرائط کا تعین صرف اور صرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری سے ہوگا۔

خلیجی معیشت پر منفی اثرات اور زیرِ سمندر کیبلز کی دھمکی اورامریکی فوجی پیش قدمی اور ایران کے سخت ردعمل کی خبروں نے خلیجی اور عالمی معیشت پر گہرے منفی اثرات مرتب کرنا شروع کر دیے ہیں۔

اسٹاک مارکیٹ میں مندی:
سفارتی مذاکرات کی ناکامی اور جنگ کے خطرات کے باعث بیشتر خلیجی ممالک کی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی دیکھی گئی۔

تجارتی اور تیل کی سپلائی پر اثر:
آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کا ایک چوتھائی سے زائد تیل گزرتا ہے، پر تناؤ بڑھنے کی وجہ سے خام تیل کی قیمتیں مسلسل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔

انٹرنیٹ اور مواصلات کو خطرہ:
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے ایک اعلیٰ عسکری کمانڈر کے حالیہ بیان نے عالمی دنیا کی تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے، جس میں انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران کی اہم بنیادی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو تہران جواباً آبنائے ہرمز کے نیچے سے گزرنے والی عالمی انٹرنیٹ اور مواصلاتی کیبلز کو تباہ کر سکتا ہے۔

فی الوقت مشرق وسطیٰ کی صورتحال ایک بارود کے ڈھیر پر کھڑی ہے۔ ایک طرف امریکہ بحری و فضائی طاقت کے ذریعے تہران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے، تو دوسری طرف ایران اپنی تمام تر عسکری تیاریوں کے ساتھ اپنی خود مختاری پر سمجوتہ نہ کرنے کا اعادہ کر رہا ہے۔ ثالثی کرنے والے ممالک کے لیے سب سے بڑا چیلنج دونوں فریقین کو ایک ایسے نقطے پر لانا ہے جہاں امریکہ کو جوہری حفاظت کی ضمانت مل سکے اور ایران کو اقتصادی پابندیوں اور عسکری دھمکیوں سے نجات۔ اگر آنے والے دنوں میں سفارت کاری کا یہ آخری راستہ بھی ناکام ہوتا ہے تو عالمی معیشت اور خلیجی خطہ ایک بے حد خوفناک اور طویل جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔